الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے: حماس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس کا کہنا ہے کہ وہ صدر محمود عباس کی جانب سے تجویز کردہ قبل از وقت انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔ حماس کے سیاسی رہنما خالد مشعال کا کہنا ہے کہ محمود عباس کا یہ قدم غیر قانونی ہے اور ان کا گروہ ان انتخابات کے انعقاد کو روکنے کے لیئے ہر ممکن پرامن اقدامات کرے گا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم اس اقدام کی مخالفت کریں گے جو آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’فلسطین کے اس اندرونی بحران کے خاتمے کے لیئے ایک قومی سمجھوتے کی ضرورت ہے نہ کہ فردِ واحد کے فیصلے کی اور فیصلہ بھی وہ جو خارجی دباؤ کے زیرِ اثر کیا جائے‘۔ خالد مشعال کا کہنا تھا کہ حماس قبل از وقت انتخابات روکنے کے لیئے عملی اقدامات اٹھائے گی تاہم انہوں نے اس امر سے انکار کیا کہ ان کی پارٹی حالیہ جھڑپوں کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم تشدد کی مدد سے نہیں بلکہ پرامن عوامی دباؤ کے ذریعے تمام غیر قانونی اقدامات کی مخالفت کریں گے‘۔ ادھر غزہ میں الفتح تنظیم اور حماس کے درمیان جھڑپوں کی عارضی بندش کے باوجود کشیدگی برقرار ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے حماس کے رہنما اور وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے صدر عباس سے کہا ہے کہ وہ غزہ کی گلیوں سے اپنی سکیورٹی فورسز کو ہٹا لیں کیونکہ ان کی موجودگی سے جھڑپیں دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔
حماس اور الفتح کے درمیان کشیدگی سے فلسطینی انتظامیہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ حماس کے جانب سے قبل از وقت انتخابات کی تجویز کو’بغاوت‘ قرار دیا گیا تھا۔ فلسطینی صدر نےانتخابات کی وجہ بین الاقوامی امداد کے اس بائیکاٹ کو قرار دیا تھا جو کہ حماس کی فتح اور اس کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے فیصلے کے بعد سے بند ہے۔ ادھر پیر کو فلسطینی صدر محمود عباس نے مشرقِ وسطٰی کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات میں ان پر زور دیا کہ وہ فلسطین کی امداد بحال کروائیں اور یہ کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے’سنجیدہ‘ مذاکرات کے لیئے تیار ہیں۔ |
اسی بارے میں محمود عباس کا جلد انتخابات کا اعادہ18 December, 2006 | آس پاس فلسطینی گروپوں میں ’سمجھوتہ‘17 December, 2006 | آس پاس بحالی امن کی نئی کوشش 18 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||