بحالی امن کی نئی کوشش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کی از سر نو بحالی کے سلسلے میں اس وقت اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے حکام سے بات چیت کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے حکام سے بات چیت کریں گے۔ عزہ میں الفتح پارٹی اور حماس کے کارکنوں کے درمیان اتوار کو دن بھر تصادم کا سلسلہ جاری رہا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے نئے انتخابات کے اعلان کے بعد سے علاقے میں پرتشدد واقعات میں اتوار کو دو افراد ہلاک ہو گئے۔ بلیئر عراق کے دورے کے بعد اب اسرائیل پہنچے ہیں۔ عراق میں انہوں نے برطانوی فوجی دستوں سے خطاب کے دوران کہا کہ خطے میں آباد اعتدال پسند قوتوں کی خاطر برطانوی فوج کااس لڑائی میں موجود رہنا ضروری ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے جمعہ کو مشرق وسطیٰ کے دورے کا آغاز ترکی اور مصر سے کیا تھا۔ مصر کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کن گھڑی آ گئی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کا حل اشد ضروری ہے۔
توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران برطانوی وزیراعظم فلسطین کے صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے ملاقاتیں کریں گے۔ اتوار کو بغداد میں عراقی وزیراعظم نور المالکی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلیئر کا کہنا تھا کہ برطانیہ عراق کی دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں اس کا ساتھ دے گا۔ بعد ازاں انہوں نے بصرہ میں برطانوی فوجی دستوں سے ملاقات کی۔ 2003 میں عراق پر اتحادی فوج کے قبضے کے بعد سے بلیئر ہر سال کرسمس سے قبل خطے میں موجود برطانوی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں انتخابات جلد ہونگے: محمود عباس16 December, 2006 | آس پاس فلسطینی گروپوں میں ’سمجھوتہ‘17 December, 2006 | آس پاس انتخابات کی تجویز، امریکی خیرمقدم17 December, 2006 | آس پاس انتخابات کی تجویز، غزہ میں ہنگامے17 December, 2006 | آس پاس مزاحمت سے نمٹنے کے لیئےگائیڈ17 December, 2006 | آس پاس کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات16 December, 2006 | آس پاس حماس کے الزام کے بعد جھڑپیں15 December, 2006 | آس پاس ’ھنیہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی‘14 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||