BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 February, 2007, 21:54 GMT 02:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الفتح، حماس متحدہ حکومت پر متفق
محمود عباس اور خالد مشعل
فلسطینیوں کے نقطۂ نظر سے سب سے اہم پیش رفت شاید الفتح اور حماس کے کارکنوں کے درمیان کا لڑائی کا خاتمہ ہو
فلسطینی تنظیموں حماس اور الفتح کے درمیان ایک متحدہ حکومت کے قیام کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر اور الفتح کے رہنما محمود عباس اور حماس کے سیاسی شعبے کے رہنما خالد مشعل نے مکّہ میں سعودی عرب کے حکمران شاہ عبداللہ کی طرف سے دی گئی ایک تقریب میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔

نئی حکومت میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ حماس سے تعلق رکھنے والے اسماعیل ہنیہ کے پاس ہی رہے گا جبکہ کچھ اہم عہدے غیر جانبدار ارکان کو دیے جائیں گے۔

اسرائیلی ریاست
 اطلاعات کے مطابق معاہدے کے مسوّدے میں اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ حماس نے صرف اتنا کہا ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ ماضی میں ہونے والے معاہدوں کا پاس کرے گی۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق معاہدے کی خبر ملتے ہی غزہ میں آتش بازی شروع ہو گئی اور لوگوں نے خوشی میں گولیاں چلائیں۔ ایک مچھلی فروش نے اے پی کو بتایا کہ چار پانچ روز سے سب کی جان اٹکی ہوئی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ صلح مستقل ہوگی۔

دونوں تنظیموں کے درمیان یہ معاہدہ کئی ہفتے جاری رہنے والی جھڑپوں اور فلسطینی انتظامیہ میں حماس کی حکومت کے خلاف ایک سال سے جاری بین الاقوامی پابندیوں کے بعد ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق معاہدے کے مسوّدے میں اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ حماس نے صرف اتنا کہا ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ ماضی میں ہونے والے معاہدوں کا پاس کرے گی۔

حماس یہودی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہی ہے جو فلسطینی انتظامیہ کے خلاف اقتصادی بائیکاٹ کرنے والے ممالک کا اہم مطالبہ ہے۔

عہدوں کی تقسیم
 دونوں کے درمیان حکومتی عہدوں کی تقسیم کے بارے میں اتفاق رائے ہو گیا ہے جس کے تحت آزاد ارکان خزانہ، خارجہ امور اور داخلہ امور کی ذمہ داری سنبھالیں گے

حماس اور الفتح کے درمیان سن دو ہزار چھ کے انتخابات کے بعد سے اقتدار کی لڑائی چل رہی ہے۔ حماس کو ان انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ حماس فلسطینی انتظامیہ کی مقننہ میں اکثریتی گروپ ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جان لین نے غزہ میں کہا کہ الفتح اور حماس نے اپنے اختلافات ختم کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کے درمیان حکومتی عہدوں کی تقسیم کے بارے میں اتفاق رائے ہو گیا ہے جس کے تحت آزاد ارکان خزانہ، خارجہ امور اور داخلہ امور کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

فلسطینیوں کے نقطۂ نظر سے سب سے اہم پیش رفت الفتح اور حماس کے کارکنوں کے درمیان کا لڑائی کا خاتمہ ہو گی جو چند روز پہلے تک جاری تھی۔

حماس اور الفتح کے درمیان معاہدے کے بعد ایک اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حماس نے کچھ ایسا وعدہ کیا ہے جس سے بین الاقوامی برادری کو فلسطینی انتظامیہ کے خلاف پابندیاں ختم کرنے میں آسانی ہو۔

اسی بارے میں
مکہ میں مذاکرات کی تیاری
07 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد