BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 February, 2007, 00:13 GMT 05:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکہ میں مذاکرات کی تیاری
اسماعیل ہانیہ مکہ جاتے ہوئے
ان مذاکرات کے نتیجے میں متحدہ حکومت قائم ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔
فلسطین میں شدید لڑائی میں الجھے ہوئے دھڑوں کے رہنما سعودی عرب مکہ میں مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔فلسطین میں خانہ جنگی کو روکنے کا یہ آخری موقع سمجھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ اور صدر محمودعباس کے درمیان ہونے والی اس ملاقات سے بہت امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اس کے نتیجے میں متحدہ حکومت قائم ہو سکتی ہے اور اسرائیل کے ساتھ امن کے اقدامات بحال ہو سکتے ہیں۔

مسٹر ہنیہ کی حماس اور مسٹر عباس کا فتح گروپ گزشتہ ایک سال سے شدید لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں۔

غزہ میں گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم سنیچر سے غیر مستحکم جنگ بندی ہے ۔غزہ میں بی بی سی کے ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونے والے مذاکرات سے قبل دونوں کیمپوں سے جو اشارے مل رہے ہیں وہ کافی مثبت ہیں ۔

فتح اور حماس کے وفود منگل کو جدہ پہنچ گئے ہیں۔اور ابتدائی مذاکرات سے قبل دونوں نے اپنے میزبان شاہ عبداللہ سے ملاقات کی۔

بدھ کو دیگر سینیئر افسران کے ساتھ دونوں وفود شاہی محل جائیں گے اور وہاں مذاکرات شروع ہونگے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ وہ 19 فروری کو مسٹر عباس اور امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس سے ملاقات کریں گے۔

اس ملاقات کی تجویز محترمہ رائس نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات بحال کرنے کے مقصد سے مشرق وسطی کے اپنے دورے کے میں پیش کی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مسٹر عباس حماس کے ساتھ ایسی حکومت میں شامل نہ ہو جائیں جو اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد ترک کرنے کے مغرب کے مطالبات کو نہیں مانتی۔

ابھی تک حماس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد ترک کرنے سے انکار کیا ہے۔اور حماس کی حکومت کو مغربی امداد کا بائیکاٹ ختم کرنے کے لیے یہی دو اہم شرائط ہیں ۔

اس سے قبل دوسرے عرب ممالک مصر ، شام ،اور قطر کی مدد سے حماس اور فتح گروپ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی کافی پر امید باتیں کہی گئی تھیں لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ حالات مختلف ہیں۔ اس بار دونوں ہی فریقوں پر اندرونی اور بین ا لاقوامی دباؤ بہت ہے اور یہ مذاکرات مسلمانوں کے سب سے مقدس شہر میں ہو رہے ہیں۔

اور اس مرتبہ ان مذاکرات کی ثالثی سیاسی اور مالی اثرو رسوخ والا ملک سعودی عرب کر رہا ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد