BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 January, 2007, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس، الفتح: مزید جھڑپیں، ہلاکتیں
غزہ
سب سے بڑی جھڑپ جبیلیہ کے مہاجر کیمپ میں ہوئی
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس اور الفتح کے درمیان گزشتہ دو روز سے جاری جھڑپوں کے حالیہ واقعات میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دونوں تنظیموں کے درمیان فلسطین میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے ہونے والی بات چیت معطل ہوگئی ہے۔ ایک سال قبل حماس کے حکومت سنبھالنے کے بعد سے جمعہ کا دن جھڑپوں کے حوالے سے بدترین دن تھا۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب بھی اکا دکا فائرنگ کی آواز سنی جاسکتی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بہتر ہوتی نظر آرہی ہے۔

جمعہ کی رات غزہ کی گلیوں میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔

جمعرات سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں گزشتہ دو روز کے دوران سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فلسطینی ڈاکٹروں کے مطابق ہلاک شدگان میں ایک دو سالہ بچے سمیت دو عام شہری بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق الفتح کے ترجمان توفیق ابو خوسہ نے بات چیت کی معطلی کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ’ ان حالات میں یہ بات چیت کیسے جاری رہ سکتی ہے جبکہ مذاکرات کی میز کے نیچے بم موجود ہو‘۔

تاہم حماس نے اس ناکامی کا ذمہ دار الفتح کو ٹھہرایا ہے۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم کے مطابق’الفتح تنظیم قاتلوں کو گروہی، سیاسی اور میڈیا کے حوالے سے پناہ فراہم کر رہی ہے۔ اس لیے حماس نے الفتح کے ساتھ جاری تمام بات چیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

حماس حکومت کے پہلے سال کی تکمیل پر غزہ میں ہونے والی جھڑپوں میں بندوقوں اور بموں کا استعمال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران حماس اور الفتح کے متعدد کارکنوں کو اغواء بھی کیا گیا ہے۔

 ان حالات میں یہ بات چیت کیسے جاری رہ سکتی ہے جبکہ مذاکرات کی میز کے نیچے بم موجود ہو۔
ترجمان الفتح، توفیق ابو خوسہ

سب سے بڑی جھڑپ جبیلیہ کے مہاجر کیمپ میں ہوئی جہاں حماس کے مسلح کارکنوں نے الفتح تنظیم کے ایک مقامی رہنما کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ بعد ازاں حماس کے کارکن اس گھر میں گھس گئے اور اس واقعے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

الفتح سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے مطابق انہوں نے جواباً حماس کے انیس کارکنوں کو پکڑ لیا جن میں سے چند کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیرِ خارجہ محمود ظہار کی رہائش گاہوں کے باہر بھی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ فلسطینی سکیورٹی افواج کے مطابق محمود ظہار کے گھر کو ایک گرینیڈ حملے میں نقصان بھی پہنچا۔

دسمبر کے وسط سے اب تک حماس اور الفتح تنظیم کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد