مذاکرات جاری رہیں گے: رائس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت اور فلسطینی رہنما محمود عباس مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مزید مذاکرات کریں گے۔ یروشلم میں امریکی ثالثی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے کہا مذاکرات مثبت اور سود مند ثابت ہوئے ہیں۔ سنہ دو ہزار تین کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اعلیٰ امریکی اہلکار کی موجودگی میں فلسطین اور اسرائیل کے رہنماؤں کے مذاکرات ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں ہیں جو اسرائیل کے ساتھ پرامن انداز میں رہ سکے۔ فلسطین کی قومی یکجہتی کی حکومت کے قیام سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی فلسطینی حکومت کو اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا، ماضی میں ہونے والے تمام معاہدوں کی پاسداری کرنا اور تشدد کی راہ کو چھوڑنا ہو گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت اور امریکی صدر جارج بش کسی بھی ایسی فلسطینی حکومت کا بائیکاٹ کا اعلان کر چکے ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکاری کرے۔ مکہ میں سعودی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں حماس اورالفتح نے قومی یکجہتی کی حکومت قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نئی حکومت میں حماس کے وزراء کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کا امکان ہے لیکن حماس اب تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے جو مغرب کا ایک بڑا مطالبہ ہے۔ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ مشرق وسطی میں امن کے عمل کو بحال کرنے کے لیے وہ جلد علاقے کا دورہ کریں گی۔ | اسی بارے میں اسرائیل اور امریکہ بائیکاٹ پر متفق18 February, 2007 | آس پاس سکیورٹی منصوبے کا اچھا آغاز: رائس17 February, 2007 | آس پاس مسجد الاقصی کے قریب جھڑپیں09 February, 2007 | آس پاس معاشی بائیکاٹ ختم کیا جائے: ہنیہ13 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||