BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 February, 2007, 12:33 GMT 17:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسجد الاقصی کے قریب جھڑپیں
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تعمیراتی کام کرارہا ہے
یروشلم میں اسرائیلی پولیس اور مسلمان مظاہرین کے درمیان جمعہ کو تصادم کے بعد شہر میں انتہائی کشیدہ فضا پائی جاتی ہے۔

یروشلم سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مسجد الاقصی میں موجود درجنوں مسلمان جمعہ کو اس وقت زخمی ہوگئے جب پولیس والوں نے مسجد الاقصی کے قریب کئے جانے والے تعمیراتی کام کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور اس دوران وہ مسجد کے احاطے میں بھی داخل ہو گئے۔

مسجد الاقصی کے باہر تعینات کئے جانے والے ہزاروں پولیس والوں نےاحتجاج کرتے ہوئے مسلمانوں پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

عینی شاہدوں کے مطابق الاقصی مسجد کے باہر مسلمان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی پولیس نے ’سٹن گرنیڈ‘ بھی استعال کیے۔ اس موقع پر کچھ نمازیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے احاطے میں محصور کر لیا ہے۔

یروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس نے اطلاع دی کہ شہر کے مسلمان علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔

اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق ان جھڑپوں میں پندرہ پولیس اہلکار اور بیس مظاہرین زخمی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس گڑبڑ کو روکنے کے لیئے قدیم شہر میں ڈھائی ہزار کے قریب پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

سجد الاقصی میں جھڑپیں
 یہ جھڑپیں معمولی نوعیت کی تھیں لیکن یہ معاملہ اتنا حساس ہے کہ یہ ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
چند روز قبل اسرائیلی حکومت کی طرف سے مسجد الاقصی کے قریب تعمیراتی کام شروع کیئے جانے کے بعد مسلمانوں اور اسرائیلی حکام کے درمیان کشیدگی پائی جاتی تھی۔

عرب اور مسلمان رہنماؤں نے اسرائیلی کی طرف سے شروع کیئے جانے والے تعمیراتی کام کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مقدس مقامات کی توہین قرار دیا تھا۔ اس تعمیراتی کام کے خلاف، جو مسلمانوں کے خیال میں مسجد کی بنیادیں کمزور کر دے گا، جمعہ کو یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ تعمیراتی کام مقاماتِ مقدصہ کی زیارت کرنے آنے والوں کی سہولت کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار میتھیو پرائس کے مطابق یہ جھڑپیں معمولی نوعیت کی تھیں لیکن یہ معاملہ اتنا حساس ہے کہ یہ ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

یروشلم کے مقتی شیخ محمد حسین نے مسجد کے اندر سے فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد کے اندر داخل ہوکر مسجد اور نمازیوں کی توہین کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے مسجد کے اندر داخل ہو کر نمازیوں پر گرنیڈ فائر کیے۔ مفتی نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مسجد کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا ہے اور وہ ایمبولینسوں کو بھی قریب آنے کی اجازت نہیں دے رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد