سکیورٹی منصوبے کا اچھا آغاز: رائس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دورے پر آنے والی امریکی وزیرِخارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ تشدد کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے نئے سکیورٹی منصوبے کے حوالے سے عراقی رہنماؤں کا ’آغاز اچھا ہے‘۔ کونڈولیزا رائس مشرقِ وسطٰی کے اپنے چھ روزہ دورے کی ابتداء میں عراق کے غیر اعلانیہ مختصر دورے پر بغداد پہنچی تھیں۔ وہ بغداد کے دورے پر اس وقت آئی ہیں جب امریکی اور عراقی افواج عراق کے دارالحکومت میں بڑے سکیورٹی آپریشن میں مصروف ہیں۔ عراقی وزیراعظم اور دیگر عراقی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت سے ’بہت متاثر ‘ ہوئی ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عراقی سکیورٹی فورسز کے لیے ضروری ہے کہ وہ تشدد میں کمی کا فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا ’ بغداد میں سکیورٹی کا نیا منصوبہ عراقی عوام کے لیے نیا دور ثابت ہو سکتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ عراق ایسا مستحکم ملک بن جائےگا جہاں لوگ واپس آ سکیں گے‘۔ بغداد میں نئے سکیورٹی منصوبے کے اعلان کے بعد حملوں میں کمی آئی ہے۔ عراقی فوج کے ترجمان بریگیڈئر قاسم الموسوی کا کہنا ہے کہ نئے سکیورٹی منصوبے کے نفاذ کے بعد سے بغداد میں تشدد کی وارداتوں میں اسّی فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مردہ خانوں میں روزانہ چالیس سے پچاس لاشیں لائی جاتی تھیں جبکہ گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں صرف بیس لاشیں لائی گئی ہیں۔ بریگیڈئر قاسم کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہر میں موجود غیر قانونی چیک پوائنٹ ختم کر دیے گئے ہیں اور نقل مکانی کرنے والے تین سو تیس خاندان واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں۔ ادھر عراق کے شمالی شہر کرکوک میں کرد اکثریتی علاقے میں دو کار بم حملوں میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان حملوں میں کم از کم اڑسٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں عراق پالیسی، بش مخالف قرارداد16 February, 2007 | آس پاس عراق:’امریکی عوام کا اعتماد اٹھ چکا‘ 14 February, 2007 | آس پاس بغداد: نئے سکیورٹی منصوبے کا اعلان13 February, 2007 | آس پاس بغداد میں دھماکے، 70 ہلاک12 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||