BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پالیسی، بش مخالف قرارداد
قرارداد کی منظوری صدر بش کے لیے ایک سیاسی دھچکا ہے
امریکی ایوان نمائندگان نے وہ قرارداد منظور کرلی ہے جس میں صدر جارج بش کے عراق میں مزید فوجی بھیجنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

صدر بش کی جماعت ریپبلیکن پارٹی کے ایک درجن سے زائد اراکین نے حزب اختلاف ڈیموکریٹس کے ساتھ ملکر اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ قرارداد 182 کے مقابلے میں 246 ووٹوں سے منظور کی گئی۔

امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر حزب اختلاف کا کنٹرول ہے۔ ڈیموکریٹِک پارٹی نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ جنگ کے معاملات پر امریکی صدر بش کی پالیسی پر کڑی نظر رکھے گی۔

حال ہی میں صدر بش نے بغداد میں سکیورٹی قائم کرنے کے لیے مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جس کی ڈیموکریٹ مخالفت کررہے ہیں۔ اس قرارداد پر سینیٹ میں سنیچر کو ووٹنگ کی جائے گی۔

قرارداد پر عمل کرنا لازمی نہیں
 امریکی کانگریس سے منظور ہونے والی اس قرارداد پر صدر بش کے لیے عمل کرنا لازمی نہیں ہوگا۔ لیکن صدر بش کو کانگریس کے اراکین کی حمایت کی ضرورت پڑے گی کیوں کہ فوجیوں کے لیے 93 بلین ڈالر ایمرجنسی فنڈز کی منظوری ابھی باقی ہے۔
سینیٹ میں اس قرارداد پر بحث کرنے کی کوششوں کو ریپبلیکن پارٹی کے اراکین ٹالنے کے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ سینیٹ میں بھی جارج بش کی مزید فوجی عراق بھیجنے کی پالیسی کو شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

امریکی کانگریس سے منظور ہونے والی اس قرارداد پر صدر بش کے لیے عمل کرنا لازمی نہیں ہوگا۔ لیکن صدر بش کو کانگریس کے اراکین کی حمایت کی ضرورت پڑے گی کیوں کہ فوجیوں کے لیے 93 بلین ڈالر ایمرجنسی فنڈز کی منظوری ابھی باقی ہے۔

یہ قرارداد حزب اختلاف ڈیموکریٹ کی تحریرکردہ ہے جس میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اراکین کانگریس عراق میں امریکی فوجیوں ’کا تحفظ اور حمایت کریں گے‘ لیکن انہیں 21500 مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ منظور نہیں ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کے روائے بلنٹ نے اس قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹ ان کوششوں سے بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں کو نقصان ہوگا۔ امریکی صدر کہتے رہے ہیں کہ ان کے مزید فوجی بھیجنے کے فیصلے سے عراق میں صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

لیکن ڈیموکریٹِ پارٹی کے جان مورتھا نے کہا کہ امریکہ کو عراق میں پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ’اور یہ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ تبدیلی کو یقینی بنائے۔‘

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس قرارداد کی منظوری سے صدر بش کو ایک اہم پیغام ملے گا۔

امریکی فوجیعراق پالیسی اور ووٹر
کیا صدر بُش مزید امریکی فوجی بھیجیں گے؟
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
دیکھیےبدترین تشدد
عراق میں خودکش بم حملوں کی تصاویر
پناہ گزین بچہ بڑھتے ہوئے مصائب
عراقی پناہ گزین جائیں تو کہاں جائیں؟
عراق میں امریکی فوجیعراق میں نیامنصوبہ
صدر بش کی نئی پالیسی پرعالمی رد عمل
عراقی تعمیر نو
عراقی تعمیرنو کےفنڈز ضائع ہو رہے ہیں
ہیلی کاپٹر’گِرتے ہیلی کاپٹر‘
عراقی فضا بھی امریکیوں کے لیے غیر محفوظ !
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد