عراق:’امریکی عوام کا اعتماد اٹھ چکا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس میں عراق کے حوالے سے صدر بش کی پالیسی پر بحث کے افتتاحی دن ڈیموکریٹس نے امریکی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ عراق پالیسی پر یہ بحث تین دن تک جاری رہے گی جس کے بعد جمعہ کو صدر بش کی جانب سے عراق میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے پر ووٹنگ ہوگی۔ یہ ڈیموکریٹس کی جانب سے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ہونے والی پہلی مکمل بحث ہے۔ سپیکر نینسی پلوسی نے اس موقع پر کہا کہ امریکی عوام اب صدر بش کی حکمتِ عملی پر اعتماد نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کے حوالے سے امریکی وعدوں کا’اختتام نظر نہیں آ رہا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ عراق میں صدر بش کی پالیسی اور طریقۂ کار پر سے امریکی عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور وہ اب نئی راہ کی تلاش میں ہیں‘۔ عراق جنگ میں حصہ لینے والے ڈیموکریٹ پیٹرک مرفی کا کہنا تھا کہ’میرے عراق چھوڑنے کے تین سال بعد آج بھی امریکی عراق بھر میں قافلے بھیجنے، گلیوں میں حملہ کرنے اور عراقی سڑکوں کو محفوظ بنانے کی کوششں میں مصروف ہیں‘۔ بحث کے دوران ریپبلکن نمائندوں نے صدر بش کی پالیسی کی زبردست حمایت کی۔ ریپلکن مسٹر بوہنر کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس اس کوشش میں ہیں کہ’ فوجیوں کے فنڈ روک دیے جائیں اور عراق کو بد امنی کی حالت میں چھوڑ کر نکل آیا جائے۔ کانگریس میں بحث کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد عراق میں موجود فوجیوں کی حمایت کرتی ہے تاہم اس میں مزید فوج بھیجنے کی مخالفت کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ عراق میں سنہ 2003 میں امریکی کارروائی کے بعد سے اب تک تین ہزار امریکی فوجی اور ہزاروں عراقی مارے جا چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ’عراق پر بحث تو ضرور کروائیں گے‘06 February, 2007 | آس پاس رپبلکن بحث رکوانے میں کامیاب06 February, 2007 | آس پاس بغداد: نئے سکیورٹی منصوبے کا اعلان13 February, 2007 | آس پاس عراق میں امریکی فوجی کمان تبدیل 10 February, 2007 | آس پاس بغداد میں دھماکے، 70 ہلاک12 February, 2007 | آس پاس ’عراق، اربوں ڈالر بھیجنا درست تھا‘07 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||