BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 February, 2007, 08:30 GMT 13:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں امریکی فوجی کمان تبدیل
پیٹرائس پہلے بھی عراق میں تعینات رہے ہیں
عراق میں امریکی فوج کے نئے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ پیٹرائس نے دارالحکومت بغداد میں تشدد کوختم کرنے کے لیے ایک اور بھرپور کوشش کےشروع کیے جانے سے پہلے سنیچر کو امریکی فوج کی کمان سنبھال لی ہے۔

بغداد میں فوج کی کمان سنبھالنے کے موقعے پر منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں جنرل پیٹرائس نے کہا ہے کہ عراق میں صورت حال مشکل ضرور ہے لیکن مایوس کن نہیں۔

جنرل پیٹرائس کی اولین ذمہ داری صدر بش کے سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے جس کے تحت عراق میں مزید بیس ہزار پانچ سو امریکی فوجیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

جنرل پیٹرائس نے جو عراق میں جنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں کہا ہے کہ ان کو جو کام سونپا گیا ہے وہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔

صرف اس سال بغداد میں بم دھماکوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

جنرل پیٹرائس کو عراق میں جنرل جارج کیسی کی جگہ تعینات کیا گیا ہے اور ان کی تقرری عراق کے بارے میں صدر بش کی طرف سے وضع کردہ نئی حکمت عملی کاحصہ ہے۔

جنرل کیسی کو امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

جنرل پیٹرائس نے صدر بش کی عراق کے بارے میں نئی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عراق میں کام آسان نہیں ہے۔

جنرل پیٹرائس نے گزشتہ ماہ اپنی تقرری کے بعد سینیٹ میں پیش ہوتے ہوئے کہا تھا ’عراق میں صورت حال نہایت سنگین ہے، ہر چیز داؤ پر لگی ہے۔ کوئی راستہ آسان نہیں ہے اور آگے بڑھنا بہت کٹھن ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کام مشکل ضرور ہے لیکن صورت حال مایوس کن نہیں۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جین پیل کا کہنا ہے کہ عراق میں جنرل پیٹرائس کی کامیابی بہت حد تک عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے رویے پر منحصر ہے۔

جیب پیل نے کہا کہ نوری المالکی نےیقین دلایا ہے کہ جو کوئی بھی پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہو گا وہ بجا طور پر فوجی کارروائیوں کا ہدف ہو گا۔

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ عراق میں ایک ہی رات میں حالات پر قابو پانے کی کوئی بھی توقع نہیں کر رہا لیکن امریکی اور عراقی حکومت دونوں ہی جلد نتائج حاصل کرنے کے لیئے بے تاب ہوں گے۔

بغداد میں عراقی اور امریکی فوج شیعہ گروہوں کے خلاف کئی ہفتوں سے ہلکی پھلکی کارروائیاں کر رہی ہیں جنہیں شیعہ گروہوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بغداد میں شروع کی جانے والی نئی کارروائی میں ہزاروں کی تعداد میں امریکی اور عراقی فوجی شامل ہوں گے جن میں بہت سے وہاں پہنچ چکے ہیں اور بغداد کو مسلح گروہوں اور اسلحہ سے پاک کرنے کے لیئے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

عراقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں اس آپریشن کے رہنما اصول وضح کر دے گی۔

ماضی میں شیعہ اکثریتی حکومت پر اپنے فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

تاہم امریکہ میں صدر بش کی نئی حکمت عملی کی ڈیموکریٹ پارٹی اور بعض رپبلکن ارکان کی طرف سے بھی مخالفت جاری رہے گی۔ صدر بش کی نئی حکمت عملی کے مخالفین عراق میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں جلد عراقی حکومت کو منقتل کرنے کے حامی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد