BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 February, 2007, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل اور امریکہ بائیکاٹ پر متفق
کونڈا لیزا رائس
کونڈا لیزو رائس بغداد کے دورے کے بعد اسرائیل پہنچی ہیں
اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کسی بھی ایسی نئی فلسطینی حکومت کے ساتھ کام نہیں کریں گے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔ اولمرت کا کہنا ہے کہ جمعہ کو امریکی صدر بش اور انہوں نے اس موقف پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات سے قبل جاری کیا ہے۔

کونڈولیزا رائس اتوار کو فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کررہی ہیں۔ پیر کو وہ محمود عباس اور اولمرت کے ساتھ ایک سہ فریقی اجلاس میں شریک ہوں گی۔

اولمرت کے بیان سے امریکہ کے نئی فلسطینی حکومت سے مذاکرات کرنے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔

فلسطین کی قومی اتحاد کی حکومت میں سب سے بڑی جماعت حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔

وزیر اعظم اولمرت نے کہا ہے کہ کوئی بھی فلسطینی انتظامیہ جو چار جماعتی گروپ بشمول امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ کی متعین کردہ شرائط کو نہیں مانے گی اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس سے تعاون کیا جاسکتا ہے۔

چار جماعتی گروپ نے فلسطین سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ گزشتہ برس حماس کے انتخابات جیتنے کے بعد سے یورپی یونین، روس اور امریکہ نے فلسطین کا اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

’موزوں‘ وقت نہیں آئے گا۔۔۔
 اگر مشرق وسطٰی آنے کے لیے ’موزوں‘ وقت کا انتظار کیا جائے تو ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا۔
رائس

اسرائیل پہنچنے کے بعد رائس کا کہنا تھا کہ فلسطین اسرائیل تنازع پر پیش رفت کے لیے یہ اہم وقت ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ تزپی لوینی سے ملاقات کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اور وزیر خارجہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ فلسطین کی نئی متحدہ حکومت کے لیے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا، تشدد کا راستہ ترک کرنا اور ماضی کے امن معاہدوں کو قبول کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فلسطینی اور اسرائیلی رہنما اتنے مضبوط ہیں کہ وہ امن کے عمل کی طرف مشکل قدم اٹھا سکیں۔

کونڈولیزا رائس نے مشرقِ وسطٰی کے اپنے چھ روزہ دورے کی ابتداء عراق کے غیر اعلانیہ مختصر دورے سے کی ہے۔ بغداد میں انہوں نے ایک نئے سکیورٹی منصوبے پر غور کیا جس کا مقصد تشدد آمیزی میں کمی کرنا ہے۔

رائس کا کہنا ہے کہ امریکہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل فلسطینی حکومت کی تشکیل کا انتظار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مشرق وسطٰی آنے کے لیے ’موزوں‘ وقت کا انتظار کیا جائے تو ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا۔

جمعرات کو فلسطینی رہنما اور فتح تنظیم کے سربراہ نے حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ سے کہا ہے کہ قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دی جائے۔

اسی بارے میں
قومی حکومت بنانے کی دعوت
16 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد