BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 March, 2007, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گھر پر رہتا ہوں جو میری ذاتی جیل ہے‘
ڈاکٹر حیدر المالکی
’زیادہ تر عراقی اب ایک دوسرے کے ساتھ نرم برتاؤ نہیں رکھتے‘
ڈاکٹر حیدر المالکی صدام حسین کے عہد میں فوج میں بطور ماہر نفسیات خدمات انجام دیتے تھے۔ اب وہ بغداد کےابن رشد ہسپتال میں بچوں کے نفسیات کے ڈاکٹر ہیں اور وہیں پر اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

’یہاں عراق میں تقریباً اسی ماہر نفسیات ہوا کرتے تھے مگر اب صرف بیس یا پچیس رہ گئے ہیں۔ جلد ہی ان میں سے پندرہ کے قریب ابوظہبی یا اردن چلے جائیں گے۔ اس سے بہت مشکل ہو جائے گی‘۔

ایک سال پہلے رمضان کے مہینے میں چار لڑکے جن کی عمریں پندرہ اور بیس کے درمیان تھیں، میرے مریضوں کے سامنے میرے پرائیویٹ کلینک میں گھس گئے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ’ کیا آپ ڈاکٹر حیدر ہیں؟ ، میرے ہاں کہنے پر انہوں نے مجھ پر کئی گولیاں چلائیں۔

ایک گولی میرے دائیں بازو پر لگی جبکہ دوسری میرے سیدھےہاتھ پر لگی۔
جس سے میرے اعصاب اور پٹھے کمزور پڑ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ میں کلینک نہیں جا سکتا اور مجھے اپنا ملک چھوڑنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیوں؟۔

اب میں کہیں باہر نہیں جاتا سارا دن گھر پر رہتا ہوں جو میری ذاتی جیل ہے۔

صدام حسین کے دور میں ہم اپنے خاندان کے ساتھ سنیما جا سکتے تھے۔ میں پینا چاہتا ہوں، ڈانس کرنا چاہتا ہوں اور اپنے دوستوں کے پاس جانا چاہتا ہوں۔لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر میں اپنے گھر سے پانچ سو میٹر دور کلب میں جانے کا سوچوں بھی تو وہ مجھےمار ڈالیں گے۔

عراقی لوگ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر نے زیادتیاں دیکھی ہیں، گلیوں میں حملے دیکھے ہیں، گاڑیوں میں دھماکے ہوتے دیکھے ہیں اور لوگوں کو اغوا ہوتے دیکھا ہے۔

 میں ڈانس کرنا چاہتا ہوں، پینا چاہتا ہوں اور اپنے دوستوں کے پاس جانا چاہتا ہوں۔لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر میں اپنے گھر سے پانچ سو میٹر دور کلب میں جانے کا سوچوں بھی تو وہ مجھےمار ڈالیں گے
ڈاکٹر حیدر

زیادہ تر عراقیوں کا رویہ اب ایک دوسرے سے جارحانہ ہے۔ سب ڈسٹرب ہیں اور تہذیب کھو چکےہیں۔ہم نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھیں۔لیکن میں اپنا ملک نہیں چھوڑ سکتا۔اگر میں اور میرے دوسرے دوست چلے گئے
تو ہمارے لوگوں کی مدد کون کرے گا۔

مجھ سے کہا گیا کہ میں ابن رشد ہسپتال میں بچوں کے لئے نفسیاتی مرکز کھول لوں لیکن حقیقتاً اس شعبے میں میری کوئی تربیت نہیں ہے۔میں کتابیں پڑھ کر مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

زیادہ تر بچےصدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی کیفیت ’پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر‘ ) سے گزر رہے ہیں خاص طور پر وہ بچے جو اغواء کی وارداتوں کا سامنا کر چکے ہیں۔

زیادہ تر بچے رات کو بستر گیلے کر دیتے ہیں اور وہ چڑچڑے پن یا مرگی کے مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم ان کا علاج عام دواؤں سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،اس طرح سے علاج کرنا بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر لوگ ہمارے پاس مدد مانگنے آتے ہیں اور بعض اوقات مشورے اور اخلاقی مدد کے سوا ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔

بساطامریکہ، صدام، عراق
بساطِ سیاست: خبروں، تجزیوں کا مجموعہ
عراقی پناہ گزینعراق سے نقل مکانی
ہر آٹھواں عراقی گھر بار چھوڑنے پر مجبور
پناہ گزین بچہ بڑھتے ہوئے مصائب
عراقی پناہ گزین جائیں تو کہاں جائیں؟
عراق میں غربت
امریکی حملے کے بعد عوام غریب تر: رپورٹ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد