’گھر پر رہتا ہوں جو میری ذاتی جیل ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر حیدر المالکی صدام حسین کے عہد میں فوج میں بطور ماہر نفسیات خدمات انجام دیتے تھے۔ اب وہ بغداد کےابن رشد ہسپتال میں بچوں کے نفسیات کے ڈاکٹر ہیں اور وہیں پر اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ’یہاں عراق میں تقریباً اسی ماہر نفسیات ہوا کرتے تھے مگر اب صرف بیس یا پچیس رہ گئے ہیں۔ جلد ہی ان میں سے پندرہ کے قریب ابوظہبی یا اردن چلے جائیں گے۔ اس سے بہت مشکل ہو جائے گی‘۔ ایک سال پہلے رمضان کے مہینے میں چار لڑکے جن کی عمریں پندرہ اور بیس کے درمیان تھیں، میرے مریضوں کے سامنے میرے پرائیویٹ کلینک میں گھس گئے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ’ کیا آپ ڈاکٹر حیدر ہیں؟ ، میرے ہاں کہنے پر انہوں نے مجھ پر کئی گولیاں چلائیں۔ ایک گولی میرے دائیں بازو پر لگی جبکہ دوسری میرے سیدھےہاتھ پر لگی۔ اب میں کہیں باہر نہیں جاتا سارا دن گھر پر رہتا ہوں جو میری ذاتی جیل ہے۔ صدام حسین کے دور میں ہم اپنے خاندان کے ساتھ سنیما جا سکتے تھے۔ میں پینا چاہتا ہوں، ڈانس کرنا چاہتا ہوں اور اپنے دوستوں کے پاس جانا چاہتا ہوں۔لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر میں اپنے گھر سے پانچ سو میٹر دور کلب میں جانے کا سوچوں بھی تو وہ مجھےمار ڈالیں گے۔ عراقی لوگ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر نے زیادتیاں دیکھی ہیں، گلیوں میں حملے دیکھے ہیں، گاڑیوں میں دھماکے ہوتے دیکھے ہیں اور لوگوں کو اغوا ہوتے دیکھا ہے۔ زیادہ تر عراقیوں کا رویہ اب ایک دوسرے سے جارحانہ ہے۔ سب ڈسٹرب ہیں اور تہذیب کھو چکےہیں۔ہم نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھیں۔لیکن میں اپنا ملک نہیں چھوڑ سکتا۔اگر میں اور میرے دوسرے دوست چلے گئے مجھ سے کہا گیا کہ میں ابن رشد ہسپتال میں بچوں کے لئے نفسیاتی مرکز کھول لوں لیکن حقیقتاً اس شعبے میں میری کوئی تربیت نہیں ہے۔میں کتابیں پڑھ کر مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ زیادہ تر بچےصدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی کیفیت ’پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر‘ ) سے گزر رہے ہیں خاص طور پر وہ بچے جو اغواء کی وارداتوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ زیادہ تر بچے رات کو بستر گیلے کر دیتے ہیں اور وہ چڑچڑے پن یا مرگی کے مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم ان کا علاج عام دواؤں سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،اس طرح سے علاج کرنا بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر لوگ ہمارے پاس مدد مانگنے آتے ہیں اور بعض اوقات مشورے اور اخلاقی مدد کے سوا ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ |
اسی بارے میں عراقی ریپ مقدمہ: اہلکار برطرف22 February, 2007 | آس پاس خود کش حملہ آور خاتون تھیں، حکام26 February, 2007 | آس پاس عراق میں جرمن ماں بیٹا یرغمال11 March, 2007 | آس پاس بغداد: ’پرامیدی کی گنجائش ہے‘18 March, 2007 | آس پاس عراق: سابق نائب صدر کو پھانسی20 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||