عراق میں جرمن ماں بیٹا یرغمال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک مبینہ اسلامی شدت پسند گروہ کا کہنا ہے کہ اس نے دو جرمنوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اگر برلن نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس نہ بلائیں تو وہ انہیں ہلاک کر دے گا۔ ماضی کے ایک غیر معروف گروپ نے ایک ’اسلامی ویب‘ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے کہ جس میں ایک نقاب پوش مسلح شخص ایک عورت اور ایک مرد کو دھمکا رہا۔ یہ یرغمالیوں کو ماں بیٹا بتائے گئے گئے ہیں۔ یرغمالی عورت نے اس ویڈیو میں نیلی سکارف لیا ہوا ہے اور روتے ہوئے چانسلر انجیلا مرکل سے اپیل کر رہی ہے کہ مطالبات پر توجہ دی جائے۔ جرمنی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ عراق میں اس کے دو شہری لاپتہ ہیں۔ خود کو ’پاکبازی کے تیر‘ قرار دینے والے اس گروہ کگ کہنا ہے ’ہم نے جرمن حکومت کو اس سلسلے میں آج سے دس دن دیے ہیں کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجوں کی وجپس بلانا شروع کرے‘۔ اس ویڈیو میں خاتون کا پاسپورٹ بھی دکھایا گیا ہے جس میں خاتون کے نام کا پہلا حصہ: ہینیلور مریانے اور شادی سے پہلےکا نام کریوز لکھا دکھائی دیتا ہے۔ جب کہ حاندانی نام کادھم ہے۔ جرمنی کے دفرِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ برلن اس بیان کا جائزہ لے رہا ہے۔ | اسی بارے میں بغداد سے برطانوی یرغمالی رہا23 March, 2006 | آس پاس فرانس عراق سے فوج نکالے: اغواکار29 December, 2005 | آس پاس نارمن کو رہا کردیں: معظم بیگ09 December, 2005 | آس پاس مشتبہ دہشت گرد کی اپیل07 December, 2005 | آس پاس عراق: مغویوں کی وڈیو نشر29 November, 2005 | آس پاس یرغمال جاپانی کی ہلاکت کی تصدیق 28 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||