عراق: سابق نائب صدر کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک حکومتی اہلکار نے بتایا ہے کہ ملک کے ایک سابق نائب صدر اور صدام حسین کے ساتھی طحہٰ یاسین رمضان کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ رمضان اس مقدمے میں شریک ملزم تھے جس میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ رمضان کو ابتدائی طور پر عمر قید کی سزا ملی تھی لیکن اپیل کورٹ نے اسے سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔ رمضٰان پر الزام تھا کہ وہ بھی سن انیس سو اسی میں دجیل شہر میں ایک سو اڑتالیس شیعہ افراد کی ہلاکت کے ذمہ دار تھے۔ رمضان صدام حسین کے بعد پھانسی کی سزا پانے والے تیسرے بڑے سابق اہلکار ہیں۔ وہ مقدمے کی پوری کارروائی کے دوران اس بات پر مُصر تھے کہ ان لوگوں کی ہلاکت میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ رمضان انیس سو تیس کے عشرے میں پیدا ہوئے۔ انہیں سن دو ہزار تین میں موصل میں کرد جنگجوؤں نے گرفتار کر کے امریکی افواج کے حوالے کیا تھا۔ صدام حسین کو تیس دسمبر سن دو ہزار چھ کو پھانسی دی گئی تھی اس کے بعد پندرہ جنوری کو ان کے دو ساتھیوں برزان ابراہیم التکریتی اور اواد احمد بندر کو پھانسی ملی تھی۔ | اسی بارے میں پھانسی مت دیں: اقوام متحدہ 09 February, 2007 | آس پاس طحہٰ یسین رمضان، سزائےموت برقرار15 March, 2007 | آس پاس طحہٰ یاسین کو بھی پھانسی کی سزا12 February, 2007 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس صدام کو پھانسی: امریکی ہاں،یورپی نہ27 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||