 | | | سابق نائب صدر طحیٰ یسین رمضان |
عراق میں ایک اپیل کورٹ نے سابق نائب صدر طحہٰ یسین رمضان اور دو سابق اہلکاروں کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عراقی قوانین کے تحت ان افراد کو تیس دنوں کے اندر پھانسی دیدی جائے گی۔ صدام حسین کے دورِ اقتدار میں طحہٰ یسین رمضان عراق کے نائب صدر تھے۔ انیس سو اسی کے عشرے میں دجیل نامی گاؤں میں شیعہ برادری کے 148 افراد کی ہلاکت کے لیے صدام حسین کے ساتھ طحہٰ یسین رمضان پر بھی مقدمہ چلایا گیا تھا۔ اس مقدمے میں طحہٰ یسین رمضان کو تاعمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن سرکاری وکلاء کی کامیاب اپیل پر انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔ اس پھانسی کی سزا کے خلاف طحہٰ یسین رمضان نے اپیل کی تھی جسے جمعرات کے روز اپیل کورٹ نے مسترد کردی ہے۔ نیویارک میں واقع تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے کہا تھا کہ طحہٰ یسین رمضان کے مقدمے کی سماعت کے دوران ناکافی ثبوت پیش کیے گئے۔ اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی سفیر لوئز آربر نے عراق کی حکومت سے اپیل کی تھی کہ طحہٰ یسین رمضان کی پھانسی کی سزا پر عمل نہ کی جائے کیوں کہ اس سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔
|