BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 March, 2007, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طحہٰ یسین رمضان، سزائےموت برقرار
سابق نائب صدر طحیٰ یسین رمضان
عراق میں ایک اپیل کورٹ نے سابق نائب صدر طحہٰ یسین رمضان اور دو سابق اہلکاروں کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ عراقی قوانین کے تحت ان افراد کو تیس دنوں کے اندر پھانسی دیدی جائے گی۔ صدام حسین کے دورِ اقتدار میں طحہٰ یسین رمضان عراق کے نائب صدر تھے۔

انیس سو اسی کے عشرے میں دجیل نامی گاؤں میں شیعہ برادری کے 148 افراد کی ہلاکت کے لیے صدام حسین کے ساتھ طحہٰ یسین رمضان پر بھی مقدمہ چلایا گیا تھا۔

اس مقدمے میں طحہٰ یسین رمضان کو تاعمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن سرکاری وکلاء کی کامیاب اپیل پر انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔

اس پھانسی کی سزا کے خلاف طحہٰ یسین رمضان نے اپیل کی تھی جسے جمعرات کے روز اپیل کورٹ نے مسترد کردی ہے۔

نیویارک میں واقع تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے کہا تھا کہ طحہٰ یسین رمضان کے مقدمے کی سماعت کے دوران ناکافی ثبوت پیش کیے گئے۔

اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی سفیر لوئز آربر نے عراق کی حکومت سے اپیل کی تھی کہ طحہٰ یسین رمضان کی پھانسی کی سزا پر عمل نہ کی جائے کیوں کہ اس سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔

صدام دجیل میں کیا ہوا؟
صدام حسین پر قائم پہلے مقدمے کی تفصیلات
صدام حسینصدام حسین مقدمہ
عدالتی کارروائی کے دوران کب کیا ہوا
صدام حسینصدام کی پھانسی
امریکی صدر سمیت عالمی رہنماؤں کا ردِعمل
صدام حسین’موت سے نہیں ڈرتا‘
صدام نے تختہ دار پر بھی طعنوں کا جواب دیا
مظاہرینصدام کی پھانسی
صدام حسین کی پھانسی پر عوامی ردِعمل
صدام حسینشیعہ، سنی اختلافات
صدام کی موت سے شیعہ، سنی تفرقہ بڑھ گیا ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد