طحہٰ یاسین کو بھی پھانسی کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک ٹرائیبونل نے سابق عراقی صدر صدام حسین کے دور میں نائب صدر طحہٰ یاسین رمضان کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ انیس سو اسی میں دجیل کے ایک گاؤں میں ایک سو اڑتالیس شیعہ مسلمانوں کے قتل کے الزام میں ان پر صدام حسین کے ساتھ مقدمہ چلایا گیا تھا۔ اس مقدمے میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اپیل عدالت نے ان کی اس سزا کو تبدیل کر دیا اور پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزا اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے شعبے کے سربراہ لوئیس آربر کی درخواست کے باجود سنائی گئی ہے جنہوں نے کہا تھا کہ پھانسی سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ طحہٰ رمضان فیصلہ سنتے وقت اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے رہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سزا سنائے جانے سے قبل سابق عراقی صدر نے کہا: ’خدا گواہ ہے میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔‘ انہوں نے کہا: ’اللہ میرا مددگار ہے اور وہی ان تمام لوگوں سے انتقام لے گا جنہوں نے میرے ساتھ ناانصافی کی ہے۔‘ تاہم طحہٰ یاسین رمضان کے اس اصرار کا عدالتی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ جج علی اکبر کہاچی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا: ’جان بوجھ کر ہلاکتوں جیسے جرم کرنے پر طحہٰ رمضان کو تا دمِ مرگ پھانسی پر لٹکایا جائے۔‘ جج نے یہ بھی کہا کہ اپیل پینل اس فیصلے پر خود ہی نظرِ ثانی کرے گا۔ صدام حسین اور ان کے دور میں اہم ترین عہدوں پر فائز دو اور افراد کو پہلے ہی پھانسی دی جا چکی ہے۔ سابق عراقی صدر کو تیس دسمبر کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا تھا اور موبائل فون پر ان کی پھانسی کی وڈیو منظرِ عام پر آنے سے عالمی سطح پر ان کو پھانسی دیئے جانے کے انداز کی مذمت ہوئی تھی۔ ان کے دو قریبی ساتھیوں برزان ابراہیم التکریتی اور عواد حماد البندر کو گزشتہ ماہ پھانسی دی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں صدام کا آغاز اور انجام30 December, 2006 | منظر نامہ صدام کے ساتھیوں کو بھی پھانسی15 January, 2007 | آس پاس صدام: ساتھیوں کی پھانسی بھی فلم بند16 January, 2007 | آس پاس مزید پھانسیاں نہ دیں، اقوامِ متحدہ04 January, 2007 | آس پاس پھانسیاں ہوں گی: عراقی حکومت 04 January, 2007 | آس پاس پھانسیاں مؤخر کریں: جلال طالبانی10 January, 2007 | آس پاس ’پھانسیاں اسی ہفتے ہوں گی‘07 January, 2007 | آس پاس پھانسی داخلی معاملہ: المالکی06 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||