صدام: ساتھیوں کی پھانسی بھی فلم بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکام نے صحافیوں کو صدام کے دو ساتھیوں کی پھانسی دکھائی ہے جس میں ایک کا سرتن سے جدا ہو دکھائی دیتا ہے۔ وڈیو میں صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان التکریتی اور عواد البندر کو ساتھ ساتھ پھانسی چڑھتا دکھایا گیا ہے۔ عراقی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ برزان التکریتی اور انقلابی عدالت کے سابق چییف جج عواد البندر کو 1982 میں 148 شیعہ مسلمانوں کے قتل کے سلسلے میں سزائے موت دی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ برزان التکریتی کا سر حادثاتی طور پر سر سے جدا ہو گیا تھا۔ صدام حسین کے ساتھیوں کی پھانسی پر عالمی برادری میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے مصر کے دورے میں کہا ہے کہ صدام حسین کے ساتھیوں کو پھانسی دینا عراق کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ملزموں کو پھانسی چڑھاتے وقت ان کی عزت کا سلوک کیوں نہیں کیاگیا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ اگر ملزموں کو پھانسی چڑھاتے وقت ان کی عزت کا خیال نہیں رکھا گیا تو یہ واضح طور پر غلط اقدام ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کے مطابق وڈیو میں سب سے پہلے دونوں کو ایک دوسرے کے پہلو میں کھڑے پھانسی کے لیے تیار ہوتا دکھایا گیا ہے۔ ’دونوں نے نارنجی رنگے کا لباس پہن رکھا تھا۔ اونی کنٹوپ پہنے جلادوں نے دونوں کے سروں پر نقاب چڑھائے اور بعد میں رسی کا پھندہ تنگ کیا۔ اس سے تھوڑی دیر بعد بغیر آواز وڈیو ریکارڈنگ میں انھیں گرتا دکھایا گیا ہے۔‘ ’اس کے فوری بعد برزان کی گردن کے گرد لپٹی رسی اوپر کو پھسل جاتی ہے اور ان کا جسم زمین پر گر جاتا ہے۔ اس کے بعد کیمرہ مین برزان تکریتی کی خون آلود گردن اور نقاب میں لپٹا سر دکھاتا ہے۔‘ پھانسی کے موقع پر وہاں موجود ایک سرکاری اہلکار کے مطابق عواد البندر کی لاش ابھی تک اوپر لٹکی ہوئی تھی۔ نامہ نگار کے مطابق سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پھانسی کی اس وڈیو کو جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ | اسی بارے میں صدام کی پھانسی کی ایک اور ویڈیو09 January, 2007 | آس پاس صدام کے ساتھیوں کو بھی پھانسی15 January, 2007 | آس پاس پھانسیاں مؤخر کریں: جلال طالبانی10 January, 2007 | آس پاس صدام کی موت سے خلیج گہری ہوگئی08 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||