’افغان صحافی کو قتل کردیا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اٹلی کے صحافی کے ساتھ اغواء کیے جانے والے افغان صحافی کو قتل کردیا گیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے چند اہم اراکین کو جیل سے رہا کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا جس کے بعد اجمل نقشبندی کو قتل کردیا گیا۔ اجمل نقشبندی افغانستان آنے والے غیرملکی صحافیوں کے لیے بطور گائیڈ اور ترجمان کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ اجمل تقشبندی کو اٹلی کے ایک رپوٹر ڈینئل مستروگیاکوموکاور اور ان کے ڈرائیور کے ہمراہ چھ مارچ کو صوبہ ہلمند میں ایک طالبان چیک پوائنٹ سے اغواء کیا گیا تھا۔ ان افراد پر برطانوی فوج کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بعد ازاں اٹلی کے رپورٹر کو طالبان کے پانچ اراکین کی رہائی کے بدلے میں آزاد کردیا گیا تھا۔
مغوی افراد کی رہائی کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کی غرض سے طالبان نے مغوی ڈرائیور کا سر قلم کردیا تھا۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مسٹر ڈینئل کی رہائی انتہائی مشکل حالات میں اٹلی کے حکام اور طالبان رہنماؤں کے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے بعد ہی عمل میں آئی تھی۔ اس سمجھوتے کے تحت مسٹر ڈینئل مستروگیاکومو کی رہائی کے بدلے میں طالبان کے پانچ اراکین کو چھوڑنا پڑا۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر اشتعال کی سی کیفیت ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک تو غیر ملکی صحافی کی رہائی کے بدلے پانچ طالبان اراکین کو آزاد کرکے طالبان کا حوصلہ بڑھایا دوسرے انہوں نے غیر ملکی کو تو بچا لیا مگر ایک افغان کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس وقت بھی افغان طبی عملے کے پانچ اراکین اور ایک فرنچ ایڈ ورکر اپنے تین افغان ساتھیوں کے ساتھ طالبان کے قبضے میں ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ قید میں موجود ان افراد کی قسمت کا فیصلہ آئندہ کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں طالبان نے 24 افغان اہلکار رہا کر دیے13 February, 2007 | آس پاس طالبان پر جاسوسہ کے قتل کا الزام09 August, 2006 | آس پاس طالبان کا سرکاری دفاتر پر قبضہ06 April, 2007 | آس پاس طالبان: تین افغانیوں کو پھانسی01 April, 2007 | آس پاس افغانستان :طالبان کا قبضہ ختم 20 February, 2007 | پاکستان طالبان کے خلاف ’بڑی کارروائی‘06 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||