افغانستان کے گمنام ہیرو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں نیٹو کی افواج جھڑپوں کے نئے سلسلے کی تیاریوں میں مصروف ہیں لیکن میدانِ جنگ سے دور، مقامی اور بین الاقوامی ادارے ملک میں غربت اور تنازعات کے گھن چکر کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’آپ طالبان کی آخری جھڑپ دیکھنا چاہیں گے؟‘ خاتون نے مجھ سے پوچھا۔ ’ہاں بالکل! یہ تو بہت اچھا ہو گا‘۔ مجھے یہ اعتراف کرنا ہو گا کہ اپنے دورے کے آغاز میں ہی مجھے اس قدر نتیجہ خیز صورتحال کی امید نہیں تھی۔ اس عورت کی بات کا مطلب سمجھے بغیر میں تجسس کے ساتھ اس کے پیچھے ان کشادہ اور کچے راستوں پر چل پڑا جو قندھار کے بے ڈھنگے سے ائیر بیس کی طرف جاتے تھے۔ یہ اسلحے کی طاقت کا کوئی حقارت بھرا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ یہ بیس کی ایک پرانی عمارت میں بہت بڑا شگاف تھا جو 2001 میں امریکی بم گرنے سے پیدا ہوا تھا۔ یہ شگاف طالبان کے روحانی اور طاقت کے مرکز قندھار میں ان کی شکست کی آخری کڑیوں میں سے ایک تھا۔ جب میں دو سال پہلے اسی بیس پر آیا تھا تو امریکیوں نے مجھے طالبان کی مکمل صفائی کے آخری مرحلے کی خبر دی تھی۔ اب بھی نیٹو کی سربراہی چھوڑنے سے پہلے جنوبی علاقوں کے دورے کے دوران جنرل ڈیوِڈ رِچرڈز سے کچھ ایسے ہی الفاظ سننے کو ملے۔ انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ 2007 میں طالبان کا صفایا کر دیا جائے گا البتہ ان کا کہنا تھا کہ طالبان اب ان کی حکمتِ عملی کے لیے خطرہ نہیں رہیں گے۔
خیر، یہ تو وقت ہی بتائے گا! ایسے وقت میں جب طالبان اور نیٹو دونوں کی جانب سے موسمِ بہار میں چڑھائی کی دھمکیوں کا بازار گرم ہے، یہ فرض کرنا قریب از امکان ہو گا کہ ابھی بھی ایک خون ریز مستقبل متوقع ہے۔ اس کے باوجود ہم کسی مختلف خبر کی تلاش میں ملک کے دوسرے حصوں کی طرف نکل پڑے: منجمند اور برف سے ڈھکی وسطی پہاڑیوں سے درّہ خیبر کی سورج کی روشنی سے چمکتی ڈھلانوں کی طرف۔ میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ سیاحت کے نقطۂ نظر سے یہ ایک برا تجربہ نہیں تھا۔ ایک دن ہم نے غزنی کے قدیم قلعے کی گارے سے بنی ہوئی شاندار فصیلیں دیکھیں جن کی بنیادیں برف میں چھپی ہوئی تھیں اور ان پر اب بھی 1839 کے برطانوی فوج کے حملے کے آثار باقی تھے تو ایک اور دن ہم نے اس تاریخی گھاٹی کی چٹانوں پر سورج کی پہلی کرنیں پڑتی دیکھیں جہاں غزنی پر حملے کے تین سال بعد ایک پسپا ہوتی ہوئی برطانوی گیریزن کے ہزاروں سپاہیوں کو کاٹ کر برف میں پھینک دیا گیا۔ یہی سبق آموز کہانی ان لوگوں سے اکثر سننے کو ملتی ہے جو نیٹو کو ایک ذلت آمیز انجام کی طرف بڑھنے سے خبردار کرتے ہیں۔ اپنے اس سفر کے دوران ہمیں وہ کوششیں دیکھنے کو ملیں جو افغانی اور بین الاقوامی لوگ مل کر کر رہے ہیں تاکہ ملک کو غربت اور جنگ کے چکر سے باہر نکالا جا سکے۔ کابل کے شمال میں چاریکر کے ایک خستہ حال کمرے میں نیلے برقعے پہنے ہوئے مجھے چند خواتین نظر آئیں جو ہلکے سرخ رنگ کی دستاویزات پکڑے فرش پر بیٹھی تھیں۔ یہ سب خواتین بنگلہ دیش کی ایک مائیکرو فنانس سکیم میں شامل ہوئی تھیں تاکہ وہ چھوٹا کاروبار شروع کر سکیں اور اپنے بچوں کو مفت طبی سہولیات اور تعلیم فراہم کر سکیں۔
کمرہ بہت چھوٹا تھا لیکن پورے ملک میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار خواتین اس سکیم کا حصہ بن چکی ہیں۔ غزنی اور جلال آباد میں میری ملاقات ان امریکی افسران سے ہوئی جو صوبائی سطح پر تعمیرِ نو کی ٹیموں کی تشکیل اور سڑکیں اور پل بنانے میں سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے شعبوں میں بھی بہت سی دلچسپ کہانیاں موجود ہیں۔ جلال آباد سے آگے پاکستانی سرحد تک پہنچنے والی برفیلی پہاڑیوں کے سائے میں ہمیں پوپی کے ایک کھیت میں لے جایا گیا جہاں پر پوست کی فصل کو ختم کیا جا رہا تھا اور یہ پوپی کے خاتمے کی مہم کے حوالے سے اس علاقے میں پہلی کارروائی تھی۔ اچانک بلائے گئے ایک جرگے میں گورنر کا بیٹا، جو کہ انسدادِ منشیات کی وزارت میں بھی کام کرتا تھا، گاؤں کے بڑوں کو سمجھا رہا تھا کہ روزی فراہم کرنے والی اس فصل کو ترک کرنا کیوں اہم ہے۔ جب ٹریکٹر پوست کے چھوٹے چھوٹے پودوں کو جڑ سے اکھاڑ رہا تھا تو تشویش بھرے چہروں کے ساتھ دیہاتیوں کی بڑی تعداد کھیت کے گرد جمع ہو گئی۔ منشیات سے نمٹنا افغانستان کے متنازعہ ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ اس مسئلے کے بہترین حل کے لیے کوئی اتفاق نظر نہیں آتا۔ پوست کے بارے میں مثبت سوچ اور کرپشن جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے ملک کو بدحالی سے نکالنے میں مذید رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ بلاشبہ بعض اوقات تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ ملک اب بھی ماضی ہی کے تنازعات کو حل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ کابل سے جلال آباد کے اس ڈرامائی سفر میں دسمبر کے بعد سے اب چھ کی بجائے دو گھنٹے لگتے تھے کیونکہ ایک چینی کمپنی نے یورپی یونین کی طرف سے دی گئی امدادی رقم سے نئی سڑک تعمیر کر دی تھی۔ راستے میں ایک مقام پر ہمیں چٹانوں کے اوپر سفید رنگ کی ٹوٹی ہوئی لکیریں نظر آئی۔ بنجر ڈھلانوں سے زمین میں دھات کا کھوج لگانے والی مشینیں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی نظر آئیں۔ یہ مشینیں بیس سال قبل سوویت یلغار کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کر رہی تھیں اور پتھروں پر سفید رنگ کے نشانات چھوڑ رہی تھیں۔
ستر افغان ماہرین پر مشتمل یہ ٹیم پچھلے ایک ماہ سے کام کر رہی تھی اور اس کا معاوضہ انہیں اقوامِ متحدہ کی طرف سے ادا کیا جا رہا تھا۔ اس عرصے میں انہیں صرف نو بارودی سرنگیں ملی تھیں۔ پانچ روز قبل ایک ماہر نے اسی کام کے دوران اپنی ایک ٹانگ بھی گنوائی تھی۔ چنانچہ موسمِ بہار میں جہاں افغانستان کو کسی کی تازہ چڑھائی کا سامنا ہے وہیں اسلحے و منشیات کی صفائی، تعمیرِ نو اور غربت کے خاتمے کا کام بھی جاری رہے گا۔ ایسے بہت سے کاموں کا گیت کسی نے نہیں گایا اور نہ ہی یہ کام مکمل ہوئے ہیں۔چنانچہ اگر جنگ اور کرپشن پر نظر نہ رکھی گئی تو یہ تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ |
اسی بارے میں دو ہزارخودکش بمبار تیار ہیں: طالبان17 February, 2007 | آس پاس نیٹو وسائل اور فوج فراہم کرے:گیٹس11 February, 2007 | آس پاس افغانستان: ناامیدی میں اضافہ07 December, 2006 | آس پاس افغانستان میں تشدد بڑھنے کا خدشہ16 November, 2006 | آس پاس تشدد میں اضافہ ہوگا:ملا عمر 23 October, 2006 | آس پاس پوست کی کاشت، ساٹھ فیصد اضافہ03 September, 2006 | آس پاس کیا طالبان ختم ہو گئے ہیں؟20 October, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||