حکومت کو طالبان کا انتباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے حکومت کو علاقے میں قائم کی گئی نئی چوکیوں اور قبائلیوں سے سخت رویے کے خاتمے کے لیے تین روز کی مہلت دی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں وہ ستمبر کے امن معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان اور گوریلا جنگ شروع کر سکتے ہیں۔ یہ اعلان شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی سے بدھ کو ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ستمبر کے معاہدے کی آخری شق یہ تھی کہ سکیورٹی فورسز نئی چوکیاں قائم نہیں کریں گی اور معاہدے سے پہلے والی بھی ختم کریں گی۔ حکومت نے یہ شق بھی توڑ دی ہے‘۔ مقامی طالبان نے چند روز قبل حکومت کے ساتھ تناؤ کی وجہ سے صدر مقام میران شاہ میں اپنے دفاتر بھی بند کر دیے تھے۔ مقامی شدت پسندوں کی تازہ ناراضگی کی وجہ حکومت کی جانب سے میران شاہ رزمک روڈ پر نئی چوکیوں کا قیام ہے۔ اس سے قبل بھی شدت پسندوں نے چوکیاں بنانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور ان کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ ان چوکیوں سے تمام قوم اور قبائلیوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر حکومت نے اگلے تین روز میں انہیں ختم نہ کیا تو اس کے بعد وہ معاہدے کے خاتمے اور گوریلا جنگ کا اعلان کریں گے۔ اس کے علاوہ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ چند پابندیوں کا بھی اعلان کریں گے تاہم اس کی وضاحت نہیں کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس معاملے پر شمالی وزیرستان کی تمام قومیں اور قبائل مل کر اس (بقول ان کے) سرکاری زیادتی کا مقابلہ کریں گے۔ حکومت کو دیے گئے اس انتباہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طالبان کےصبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’آپریشن روک دیں ورنہ اعلانِ جہاد‘09 July, 2007 | پاکستان امن معاہدے کی خلاف ورزی: گورنر07 July, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر حملہ، آٹھ افراد ہلاک04 July, 2007 | پاکستان صدر کی سربراہی، جرگے کا بائیکاٹ 26 June, 2007 | پاکستان اتحادی بوکھلا گئے ہیں: حاجی عمر 24 June, 2007 | پاکستان مولانا فضل اللہ، معاہدے کے بعد21 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||