BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 June, 2007, 09:37 GMT 14:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کی سربراہی، جرگے کا بائیکاٹ

فاٹا سے تعلق رکھنے والے بیس میں انیس اراکین نے بائیکاٹ کیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ اور شمالی وزیرستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کرانے والے چند اہم ملکان نے منگل کوگورنر ہاؤس پشاور میں پاکستان کے صدر جنرل پرویزمشرف کی سربراہی میں ہونے والے قبائلی جرگے کا احتجاجاً بائیکاٹ کیا اور اس سے ایک دکھاوا قراردیا ہے۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ سنیٹر حمیداللہ جان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئےدعویٰ کیا کہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی اور سینٹ کے تقریباً بیس میں سے اٹھارہ اراکین نے احتجاجاً بائیکاٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر جی جے جمال بطور وفاقی وزیر جرگے میں شرکت کی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے ایک ایسے قبائلی جرگے میں شرکت کرنے سے انکار کیا جس میں پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف شریک تھے۔ مبصرین اس سے ایک غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

سنیٹر حمیداللہ جان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت قبائلی علاقوں کے امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل سے متعلق حکمت عملی وضع کرنے کے سلسلے میں فاٹا کے منتخب اراکین پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لے رہی ہے اور اسی لیے انہوں نے جرگے کا احتجاجاً بائیکاٹ کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت قبائلیوں کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہی ہے اور اتنی زحمت بھی نہیں کرتی ہے کہ قبائلی علاقوں سے متعلق ہونے والے فیصلوں میں منتخب اراکین اسمبلی سے مشاورت کی جائے‘۔سنیٹر حمیداللہ جان نےگورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والے قبائلی جرگے کو ایک دکھاوا قرار دیا۔

جرگے کا بائیکاٹ کرنے والے شمالی وزیرستان کے چیف آف وزیر ملک نصراللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت نے چند عرصے قبل معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں اعتماد میں لیے بغیر شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا تھا جس پر امن کمیٹی کے تمام ارکان نے احتجاجاً استعفی دیا تھا اور ہم نےجرگے میں بھی اسی وجہ سے شرکت نہیں کی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد