BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوگ کا ہفتہ، پھر تین روزہ ہڑتال

’ہمیں بتایا جائے کہ کراچی شہر کسی ایک ٹولے کا ہے یا یہ پاکستان کا ہے‘
کراچی میں پختون ایکشن کمیٹی کی جانب سے بدھ کی شب منعقد ہونے والے پختون عمائدین کے لویہ جرگے نے بارہ مئی کے پُرتشدد واقعات کے خلاف جمعرات سے ہفتۂ سوگ اور پچیس مئی سے تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

یہ لویہ جرگہ دو سال قبل تشکیل پانے والی پختون ایکشن کمیٹی کراچی کے چیئرمین شاہی سید کی صدارت میں ان کی رہائشگاہ پر منعقد ہوا جس میں کراچی میں آباد پختونوں کے عمائدین نے شرکت کی۔

جرگے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہی سید نے کہا کہ جرگے میں بارہ مئی کو کراچی میں پُرتشدد واقعات میں پختون آبادی کو ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ زخمی اور ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کوئی حکومتی معاوضہ قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو ایک ایک لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 25 ہزار روپے امداد دی جائے گی۔

اس سلسلے میں جرگے کے شرکاء نے لاکھوں روپے عطیات کا بھی اعلان کیا۔

شاہی سید نے دعوی کیا کہ بارہ مئی کو تشدد کے واقعات میں تیس پختون جاں بحق اور 150 زخمی ہوئے۔

انہوں نے بارہ مئی کو ہونے والی خونریزی کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا اور کہا کہ اس میں سندھ حکومت ملوث ہے اور ان کے پاس اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی نے سندھ حکومت کو ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے بہتر گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کے بعد جرگے نے احتجاج کا لائحہ عمل طے کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعرات سے ہفتہ سوگ منایا جائے گا اس سلسلے میں تمام پختون آبادیوں میں احتجاجی بینرز اور سیاہ جھنڈے آویزاں کئے جائیں گے اور جمعرات کو ایکشن کمیٹی کی تمام اراکین تمام ہلاک شدگان کے ورثاء سے تعزیت اور زخمیوں کی عیادت کریں گے۔

جمعہ کو جاں بحق ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 25 مئی سے تین روزہ ہڑتال کی جائے گی۔

شاہی سید کے مطابق ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی میں 40 لاکھ پختون آباد ہیں جو ان واقعات کے بعد خود کو غیرمحفوظ تصور کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ کراچی شہر کسی ایک ٹولے کا ہے یا یہ پاکستان کا ہے۔ اگر کراچی شہر کسی ٹولے کو دیا ہوا ہے تو پھر ہم کراچی میں رہنا نہیں چاہتے کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کراچی ہمارا ہے باقی پاکستان کی آپ بات کرو تو پھر یہاں پر ملک کا آئین و قانون لاگو ہونا چاہئے اور اس کا احترام کرنا چاہی۔‘

لویہ جرگے نے مطالبہ کیا کہ 12 مئی کے سانحے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لئے ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل تحقیقاتی ٹریبونل تشکیل دیا جائے جو پندرہ دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔

جرگے نےگورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے داخلہ وسیم اختر کی فوری برطرفی اور ہلا ک و زخمی ہونے والوں کی ایف آئی آر متعلقہ انتظامیہ کے خلاف درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

بات سے بات’قصور‘ جسٹس کا
’حکومت بہرحال حکومت ہی ہوتی ہے‘
کراچیکراچی تصویروں میں
احتجاج اور سوگ کے ساتھ تشدد کا دوسرا دن
رینجرزکراچی اور رینجرز
سڑکوں پر تشدد کے وقت رینجرز کہاں تھے؟
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد