BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 June, 2007, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک افغان جرگہ: ایجنڈے پر اتفاق

امن جرگہ
جرگہ کمیشن کا دوسرا اجلاس مئی کے آخر میں اسلام آباد میں ہوا تھا۔
پاکستان میں وزارت داخلہ کے ’نیشنل کرائیسس منیجمینٹ سیل، کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں امن جرگے کے ایجنڈے پر اتفاق ہوگیا ہے اور امکان ہے کہ جرگہ اگست کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوگا۔

یہ اعلان انہوں نے منگل کو وزارت داخلہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں کیا۔ انہوں نے جرگے کے ایجنڈے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

طالبان کے نمائندوں کی جرگے میں شمولیت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ افغان حکومت کو کرنا ہے۔ جبکہ جرگے میں دونوں ملکوں کی نمائندگی کرنے والوں کا فیصلہ متعلقہ حکومتیں کریں گی۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں پر مشتمل امن جرگہ منعقد کرنے کی تجویز امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے صدور کو واشنگٹن میں دیئے گئے عشائیے میں سامنے آئی تھی۔ جرگہ کا مقصد افغانستان میں طالبان شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

بریفنگ میں جاوید اقبال چیمہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں چھبیس تاریخ کو وکلاء کے سیمینار میں چیف جسٹس کے خطاب کے موقع پر ریاستی اداروں کے خلاف نعرہ بازی کے معاملے پر وہ جلد عدالت اعظمیٰ میں باضابطہ پٹیشن دائر کریں گے۔

حکومت نے پہلے عدالت اعظمیٰ کو خط لکھ کر کارروائی کرنے کی درخواست کی تھی جس کی سماعت کے لیے عدالت اعظمیٰ نے پانچ رکنی بینچ بنایا جس میں سے دو جج ذاتی وجوہ کی بنا پر بینچ سے الگ ہوگئے اور باقی تین ججوں نے کہا کہ یہ نازک معاملہ ہے اس کی سماعت فل کورٹ یعنی تمام جج کریں۔ عدالت نے کہا تھا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو باضابطہ پٹیشن دائر کرے۔

بارہ مئی کو کراچی میں تشدد کے واقعات میں مبینہ طور پر الطاف حسین کے ملوث ہونے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تاحال حکومت پاکستان نے برطانیہ سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی برطانوی حکومت نے پاکستان سے کچھ کہا ہے۔

عمران خان کی جانب سے الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ دائر کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے اس بارے میں وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے۔

بریگیڈیئر چیمہ نے کہا کہ پیر کو صدر کی سربراہی میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں بندوبستی علاقوں میں شدت پسندی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی گئی تھی اور صدر نے متعدد اقدامات کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بندوبستی علاقوں کے منتخب نمائندوں کے ذریعے سیاسی اقدامات کیے جائیں گے جبکہ سکیورٹی فورسز کو جدید اسلحہ اور آلات دیے جائیں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا پر پابندیوں کے خلاف پیر کو صحافیوں کی جانب سے مظاہرے کرنے پر مقدمہ درج کرنے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا ’مجھے مقدمے کی تفصیلات کا علم نہیں لیکن اسلام آباد میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے اور جو بھی اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی‘۔

سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے قتل میں ان کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان میں ایک ایسے شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس کی ایک ٹانگ اور بازو ٹوٹے ہیں اور اس پر ڈکیتی کا الزام لگایا گیا ہے تو جاوید اقبال نے کہا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں۔

پشاور میں محکمۂ اطلاعات کے ڈائریکٹر مہدی حسین کے قتل کی انہوں نے مذمت کی اور کہا کہ بظاہر فی الوقت یہ فرقہ وارانہ قتل معلوم ہوتا ہے۔

ایک موقع پر جب انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ امن امان کے اعتبار سے قدرے بہتر رہا تو ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں اٹھائیس خود کش حملے ہوچکے بیسیوں افراد مارے گئے اور ایک بھی معمہ حکومت حل نہیں کر پائی تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وہ جلد ہر واقعہ کی تفصیل بیان کریں گے۔

جرگہلویا جرگہ کی تیاری
افغانستان میں لویا جرگہ کی روایت قدیم ہے
جرگہمذاکرات شروع
وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد