BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لویا جرگہ کی تیاری کے لیے مذاکرات

کرزئی، بش، مشرف
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جرگے کی تجویز پر امریکی صدر کی جانب دیئے گئے عشائیے میں کیا گیا تھا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اگست میں متوقع امن جرگے کے قواعد و ضوابط اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیئے سہہ روزہ مذاکرات آج سے اسلام آباد میں شروع ہو رہے ہیں۔

اس بابت افغانستان کا ایک بارہ رکنی وفد پیر سید احمد گیلانی کی سربراہی میں اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے علاوہ گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی، گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، اور وفاقی وزراء غازی گلاب جمال اور سردار یار محمد رند کریں گے۔

مذاکرات سے چند روز قبل پاکستانی اہلکاروں نے ایک اجلاس میں اپنے موقف کے تعین پر غور کیا تھا۔

توقع ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اگست کے پہلے ہفتے میں منعقد کیے جانے والے ’لویا جرگہ‘ میں دونوں جانب سے مجموعی طور پر سات سو نمائندے شریک ہوں گے۔

لویا جرگہ بلانے کا بنیادی مقصد افغانستان میں اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر ہونے والے تشدد کو روکنا ہے۔

طالبان
دو ہزار ایک میں امریکی افواج کے سامنے پسپائی کے بعد طالبان کی گوریلہ کارروائیوں میں مسلسل تیزی آئی ہے۔
پاکستان میں بلوچستان اور سرحد کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بڑے پیمانے پر جرگہ منعقد کرنے کی روایت نہیں رہی ہے۔ تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی مشترکہ لویا جرگہ میں حصہ لینے والے وفد کے تعین کے طریقۂ کار پر فیصلہ کرے گا۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ اس کا وفد علماء، قبائلی عمائدین، ارکان پارلیمنٹ، تاجر، صنعتکار، معذوروں کے نمائندے اور خواتین پر مشتمل ہوگا۔

تشدد کی روک تھام
لویا جرگہ بلانے کا بنیادی مقصد افغانستان میں اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر ہونے والے تشدد کو روکنا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا جرگے میں طالبان کو شرکت کی دعوت دی جائے گی یا نہیں۔ البتہ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا فیصلہ لویا جرگہ ہی کرے گا۔

گزشتہ سال ستمبر میں افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن میں صدر بش کی جانب سے دیے گئے ایک عشائیہ پر ہونے والی بات چیت میں سرحد کے آر پار شدت پسندوں کی نقل وحرکت روکنے اور قیام امن کے لیے ایک جرگہ طلب کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

افغانستان اور پاکستان نے اس سلسلے میں دو جرگہ کمیشن تشکیل دیے تھے۔

پاکستان پہلے ہی قبائلی جرگے کے ذریعے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے کر چکا ہے جس پر بعض امریکی اہلکاروں کے علاوہ مغربی میڈیا نے شدید تنقید کی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کی وجہ سے علاقے میں امن لوٹ آیا ہے اور شدت پسندوں کو تنہا کردیا گیا ہے۔

جرگے کی تجویز
کرزئی نےپختونوں کے جرگے کی تجویز دی ہے۔
وزیرستان معاہدہ
’بالآخر فوج نے بھی عقل کے ناخن لیئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد