BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 May, 2007, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک افغان لویا جرگہ اگست میں

پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان اس طرح کا یہ پہلا رابطہ ہوگا
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اگست کے پہلے ہفتے میں منعقد کیے جانے والے ’لویا جرگہ‘ میں دونوں ملکوں سے 700 افراد شرکت کریں گے۔

وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر ملک کی جانب سے 350 افراد پر مبنی عوام کا وفد لویا جرگہ میں شرکت کرے گا۔

یہ بات وزیر داخلہ شیرپاؤ نے کابل میں پاک افغان جرگہ کمیشن کی دوسری دو روزہ میٹنگ کے اختتام پر کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ لویا جرگہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اس طرح کا پہلا رابطہ ہوگا۔

لویا جرگہ بلانے کا مقصد افغانستان میں اور سرحد پر ہونے والے تشدد کو روکنا ہے۔ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ لویا جرگہ سے قبل بھی پاکستان تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے ساتھ تعاون کرتا رہے گا۔

کابل میں پاک افغان جرگہ کمیشن کی دوسری میٹنگ لویا جرگہ کا ایجنڈا طے کرنے کے لیے بلائی گئی تھی۔ آفتاب شیرپاؤ نے بتایا کہ کمیشن کی تیسری میٹنگ مئی کے آخر میں اسلام آباد میں ہوگی۔

وزیر داخلہ شیرپاؤ نے بتایا کہ بلوچستان اور سرحد کے علاوہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر جرگہ منعقد کرنے کی روایت نہیں رہی ہے تاہم پاکستان جلد ہی مشترکہ لویا جرگہ میں حصہ لینے والے وفد کے تعین کے طریقۂ کار پر فیصلہ کرے گا۔

انقرہ مذاکرات اور ورکِنگ گروپ
 پاک افغان کمیشن جرگے کے انعقاد کے لیے تاریخ، مقام اور ترکیب پر ایسے وقت پر اتفاق ہوا ہے جب چند روز قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور افغان صدرحامد کرزئی نے ترکی کےدارالحکومت انقرہ میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور دراندازی روکنے سے متعلق ایک ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد میں زیادہ تر افراد کا تعلق پاک افغان سرحد پر واقع قبائل سے ہوگا لیکن ان میں ناظم، ادیب، علماء، صحافی، دانشور، سینیٹ کے ڈِپٹی چیئرمین، رکن پارلیمان، قومی اسمبلی کے ڈِپٹی سپیکر وغیرہ شامل ہوں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستانی وفد میں کیا حزب اختلاف کے سیاست دان بھی شامل ہوں گے، شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے رہنما بھی رکن پارلیمان ہیں اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، لہذا حکومت وفد میں ان کی شمولیت میں ’کنجوسی‘ نہیں دکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کے سیاست دان بھی جو بااثر ہیں اس وفد میں شامل ہوں گے۔

لویا جرگہ کے لیے افغان وفد
افغانستان کے پارلیمانی امور کے ترجمان آصف ننگ نے کابل سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو فون پر بتایا کہ افغانستان کا جرگہ علماء، قبائلی عمائدین، ارکان پارلیمنٹ، تاجر،صنعتکار، معذوروں کے نمائندے اور خواتین پر مشتمل ہوگا۔

جمعہ کے روز اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں طرف سے اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ دونوں ممالک میں امن کی بحالی اور فروغ کے لیے جرگے کا انعقاد انتہائی اہم قدم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں جرگے کے ایجنڈے پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور اس سلسے میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا جو جرگے کے اختیارات، طریقہ کار اور دیگر اہم دستاویزات کے بنانے پر کام کرے گا۔ بیان کے مطابق ورکنگ گروپ جرگے کے انعقاد کو ممکن بنانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنیکل اور لاجسٹیکل معماملات پر معاونت بھی فراہم کرے گا۔

آصف ننگ کے مطابق دوروزہ اجلاس کے اختتام پر جمعہ کو پاکستان جرگہ کمیشن کے ارکان نے افغانستان کے صدر حامد کر زئی سے ملاقات کی جس میں دونوں طرف سے ایک دوسرے کو یہ یقین دلایا گیا کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔

طالبان کی شرکت، کوئی فیصلہ؟
 جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کمیشن کے اجلاس میں جرگے میں طالبان کی شرکت سے متعلق کوئی فیصلہ کیا گیا تو آصف ننگ کا کہنا تھا کہ’یہ جرگہ کمیشن کا اجلاس تھا جسے یہ اختیار حاصل نہیں ہے، البتہ اس کا فیصلہ دونوں ممالک کے جرگہ ممبران کریں گے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئے کہ نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران حامد کرزئی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے حالیہ کوششوں کی تعریف کی جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی صلاحیت کے مطابق دہشت گردی کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کمیشن کے اجلاس میں جرگے میں طالبان کی شرکت سے متعلق کوئی فیصلہ کیا گیا تو آصف ننگ کا کہنا تھا کہ’یہ جرگہ کمیشن کا اجلاس تھا جسے یہ اختیار حاصل نہیں ہے، البتہ اس کا فیصلہ دونوں ممالک کے جرگہ ممبران کریں گے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئے کہ نہیں۔‘

پاک افغان کمیشن جرگے کے انعقاد کے لیے تاریخ، مقام اور ترکیب پر ایسے وقت پر اتفاق ہوا ہے جب چند روز قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور افغان صدرحامد کرزئی نے ترکی کےدارالحکومت انقرہ میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور دراندازی روکنے سے متعلق ایک ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

گزشتہ سال ستمبر میں افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن میں صدر بش کی جانب سے دیے گئے عشائیہ پر ہونے والی بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سرحد کے آر پار شدت پسندوں کی نقل وحرکت روکنے اور قیام امن کے لیے ایک جرگہ بلایا جائے گا۔

افغانستان اور پاکستان نے اس سلسلے میں دو جرگہ کمیشن تشکیل دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے قائم کردہ کمیشنوں کا پہلا اجلاس بارہ مارچ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا تھا۔ جبکہ تیسرا اجلاس اب مئی کے آخر میں ہونا طے پایا ہے۔

پاکستان پہلے ہی قبائلی جرگے کے ذریعے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے کر چکا ہے جس پر بعض امریکی اہلکاروں کے علاوہ مغربی میڈیا نے شدید تنقید کی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کی وجہ سے علاقے میں امن لوٹ آیا ہے اور شدت پسندوں کو تنہا کردیا گیا ہے۔

قبائلیجرگہ کی بحالی
رابطوں کی بحالی پر شدت پسندوں کا خیر مقدم
وزیرستان امن معاہدہ
فریقین معاہدے پرعمل کریں گے: رکن جرگہ
جرگے کی تجویز
کرزئی نےپختونوں کے جرگے کی تجویز دی ہے۔
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
معاہدہِ وزیرستان
مقامی طالبان مہلت حاصل کرنے میں کامیاب
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد