پاک افغان اور نیٹو حکام کا اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان افغانستان اور نیٹو افواج کے حکام نے پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی اور مشتبہ افراد کی نقل وحرکت روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں بدھ سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا جس میں افغانستان اور نیٹو کے پچیس رکنی وفد نے شرکت کی ۔ یہ اجلاس چمن میں فرنٹیئر کور کے دفتر میں ہوا ۔ اس اجلاس کے موقع پر چمن میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور پاک افغان سرحد دو گھنٹے کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ چمن سےموصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں سرحد کی نگرانی کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین روا بط کو بہتر بنانے اور خفیہ اطلاعات کے تبادلے میں تعاون کرنے کے لیے کہا گیا ۔ یہ سہہ فریقی اجلاس ہرتین ماہ بعد منعقد کیا جاتا ہے جس میں سرحد کی صورتحال پرمشاورت کی جاتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے چمن میں بائیو میٹرک نظام نصب کیا گیا ہے لیکن افغانستان کی جانب سے مخالفت کے سبب اس نظام کو باقاعدہ طور پر شروع نہیں کیا گیا ہے۔ افغانستان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ مشتبہ طالبان پاکستان سے افغانستان آکر کارروائیاں کرتے ہیں اور یہ کہ طالبان کی قیادت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہے لیکن پاکستان کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے مابین گرینڈ جرگے کے انعقاد پر رضامندی کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین پائے جانے والے خدشات کو دور کیا جا سکے گا۔ یہ جرگہ اس سال اگست میں کابل میں منعقد ہوگا۔ لیکن دوسری جانب مشتبہ طالبان کی جانب سے ایک بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے جس میں گرینڈ جرگے کی مخالفت کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں طالبان: نیٹو کی نئی حکمت عملی10 January, 2007 | آس پاس پاکستانی منصوبے پر کرزئی کی تنقید 28 December, 2006 | آس پاس ’طالبان سے مذاکرات کریں‘09 May, 2007 | آس پاس افغانستان میں پاک کیمپ کی اجازت11 March, 2007 | آس پاس افغانستان: نیٹو کے 6 فوجی ہلاک08 April, 2007 | آس پاس پاک افغان لویا جرگہ اگست میں04 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||