افغانستان میں پاک کیمپ کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں ایک کیمپ قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ ان دس لاپتہ پاکستانی فوجیوں کوتلاش کیا جاسکے جو دو مارچ کو پاک افغان سرحد پر برف کے تودے تلے دب گئے تھے۔ یہ فوجی اس وقت برف کے نیچے دب گئے تھے جب وہ پشاور سے تقریباً پچھہتر کلومیٹر دور پاک افغان سرحد پر برف پوش پہاڑی علاقے کچکول میں پیدل گشت کر رہے تھے۔ امدادی کارکنوں نے چار فوجیوں کو نکال لیا تھا جبکہ دس ابھی تک لاپتہ ہیں۔ اتحادی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سات مارچ کو حکومت پاکستان نے افغان حکومت اور نیٹو سے درخواست کی تھی کہ وہ افغان سرحد کے اندر ایک کلومیٹر کے علاقے تک پاکستان کی تیس رکنی ٹیم کو ایک کیمپ قائم کرنے کی اجازت دیں تاکہ پھنسے ہوئے فوجیوں کی تلاش کے لیے جائے وقوعہ تک جانے میں آسانی ہو۔ پاکستان، افغانستان اور اتحادی افواج پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کا مقصد سرحد کے آر پار ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی ہے۔ نیٹو کے بیان میں ان دس فوجیوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام نے اتحادی افواج کے اس بیان کی تصدیق کی ہے۔ ایک پاکستانی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ برف کے تودے میں دبے فوجی ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پہاڑی تودہ مسلسل افغانستان کی طرف پھسل رہا ہے اس لیے امدادی ٹیم کی تلاش وہاں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ فوجیوں کی تلاش میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے کیونکہ پہاڑ پر اب بھی برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی تقریباّ اسّی ہزار فوج مشتبہ طالبان، القاعدہ اور ان کے حامیوں کا کھوج لگانے کے لیے افغانستان کی سرحد پر تعینات ہے۔ | اسی بارے میں کیا پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے؟02 March, 2007 | پاکستان پاکستان پر بھی طالبان کے سائے06 March, 2007 | پاکستان طالبان اور القاعدہ کا ایک نکاتی ایجنڈا09 March, 2007 | پاکستان ’ہم ترقی پسند اور جمہوری ملک ہیں‘09 March, 2007 | پاکستان ’پاکستان میں ہمارا مضبوط نیٹورک ہے‘10 March, 2007 | پاکستان تین شدت پسند، ایک فوجی ہلاک10 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||