’ہم ترقی پسند اور جمہوری ملک ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے دنیا کے سات اہم مقامات پر تعینات اپنے سفیروں سے کہا ہے کہ وہ ملکی مفادات کے حصول کے لیے معذرت خواہانہ یا دفاعی رویہ اختیار نہ کریں۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، افغانستان اور ایران میں تعینات سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزارت خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغانستان اور ایران کی صورتحال اور صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے شروع کردہ کوششوں کے پس منظر میں اپنے سفیروں کو بحث و مباحثے کے لیے اسلام آباد طلب کیا ہے۔ دو روزہ صلاح و مشوہ یا ’برین سٹارمنگ‘ کے پہلے دن وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان نے سفیروں سےصورتحال پر تفصیل سے بات چیت کی اور سفیروں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی۔ دوسرے روز یعنی جمعہ کو سفیروں نے دفترخارجہ میں سینیئر حکام سے مشاورت کی اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر خارجہ اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور دونوں موجود تھے۔
وزیراعظم نے سفیروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کو یہ واضح پیغام دیں کہ پاکستان ایک ترقی پسند، جمہوری، معتدل اور تیزی سے پھیلنے والی معیشت کا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن اور سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے مفادات کے لیے شامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے جو کچھ کرسکتا ہے وہ کر رہا ہے اور اس کے واضح نتائج بھی حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ افغانستان کو جس چیلینج کا سامنا ہے اس کا حل بھی ان کے اپنے ملک کے اندر ہے، تاہم شوکت عزیز نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے افغانستان میں استحکام ضروری ہے۔ ایران کے متعلق وزیراعظم نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نکتہ نظر واضح ہے کہ وہ جوہری پھیلاؤ کے خلاف ہے۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان پر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے متعلق ایران کے بنیادی حق کو تسلیم کرتا ہے۔ شوکت عزیز نے کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کا مخالف ہے کیونکہ ایران پر حملہ پورے خطے کو غیر مستحکم کردے گا جسے پہلے ہی متعدد چیلینجز درپیش ہیں۔ بھارت سے جامع مذاکرات کے بارے میں سفیروں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ انتظامات تنازعات کے حل سے آگے بڑھیں۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے ٹھوس بات چیت شروع کریں گے۔ انہوں نے سفیروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی معیشت اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کے بارے میں سرمایہ کاروں کو ترغیب دیں اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھائیں۔ ان کے مطابق اب بین الاقوامی نظام ’جیو پالیٹکس‘ سے ’جیو اکنامکس‘ کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایسے میں کامیابی کے لیے اقتصادی سفارتکاری لازمی ہوگئی ہے۔ | اسی بارے میں واقعہ افسوسناک ہے: شوکت عزیز17 February, 2007 | پاکستان ’باڑ،بارودی سرنگیں لگائیں گے‘03 January, 2007 | پاکستان معاشی صورت حال اور حکومتی دعوے28 December, 2006 | پاکستان حدودبل،اختلافات نہیں:شوکت عزیز04 December, 2006 | پاکستان شوکت عزیز: اگست کا ہدف29 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||