’طالبان سے مذاکرات کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان پارلیمان کے ایوان بالا میں ارکان نے واضح اکثریت سے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ طالبان جنگجوؤں سے براہ راست مذاکرات کرے۔ اس مسودہ قانون کے ذریعے جسے ابھی ایوان زیریں میں بھی منظوری کے لیے پیش کیا جانا ہے نیٹو افواج سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مقامی طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں بند کر دے۔ اس مسودہ قانون کو قومی مفاہمتی بل کا نام دیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ وہ مقامی طالبان اور غیر ملکی جنگجوؤں کے درمیان امتیاز کرے اور مقامی طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان بھی تمیز کی جائے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بل ایک ایسے وقت پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے جب غیر ملکی افواج کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس کے علاوہ عام شہری کے حالات بہتر بنانے میں حکومتی ناکامی پر بھی لوگوں میں اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ افغان امور کے تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں میں امریکی فوجیوں کے عام شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی شہروں میں اس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں اور ارکانِ پارلیمان اور صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر وہ اتحادی فوجوں کی کارروائیوں کو روک نہیں سکتے تو مستعفی ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں افغانستان میں ایک نیا سیاسی اتحاد بھی بنا ہے جس میں سابق کیمونسٹ، مجاہدین اور ظاہر شاہ کے پوتے بھی شامل ہیں۔ اس اتحاد نے بھی حامد کرزئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک امریکیوں اور افغان حکومت کی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح طالبان تحریک میں اختلافات پیدا کیئے جائیں اور معتدل عناصر کو حکومت میں شامل کر لیا جائے لیکن اس میں وہ ناکام ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان رہنما ملاء عمر نے مذاکرات کے لیے بڑی کڑی شرائط رکھی ہیں جن میں سب سے پہلے غیر ملکیوں فوجیوں کو افغانستان سے انخلاء ہے۔ تاہم افغانستان میں جاری خون ریزی کو بند کرنے کے لیے اب طالبان پر بھی مذاکرات کے لیے عوامی دباؤ بڑھے گا۔ دریں اثناء افغانستان میں امریکی افواج نے دو ماہ قبل جلال آباد میں متعدد شہریوں کی ہلاکتوں اور ان کو زخمی کیے جانے پر معذرت کی ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکی فوجی دستے نے اپنے اوپر کیئے جانے والے خود کش حملے کے ردعمل میں بلا ضرورت طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کئی شہریوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا تھا۔ امریکی فوج کی فائرنگ میں آٹھ افغان ہلاک اور پینتیس کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ ایک امریکی فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ انہوں نے مرنے والوں کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقع پر انتہائی شرمندہ ہیں۔ امریکی حکومت نے مرنے اور زخمی ہونے والوں کو دو ہزار امریکی ڈالر معاوضہ ادا کیا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں یہ اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ تھا جس میں امریکی فوج پر شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہو اور اس پر عوامی احتجاج بھی کیا گیا ہو۔ | اسی بارے میں جلال آباد میں بم دھماکہ، آٹھ ہلاک31 July, 2006 | آس پاس افغانستان: مبینہ ہلاکت پر مظاہرہ31 December, 2006 | آس پاس افغانستان: ضلعی پولیس سربراہ اغواء01 January, 2007 | آس پاس ’حملے کی تصاویر مٹا دی گئی تھیں‘ 05 March, 2007 | آس پاس دوسری بار بمباری، مزید نو ہلاک05 March, 2007 | آس پاس ننگرہار میں ’بےجا طاقت‘ کا استعمال15 April, 2007 | آس پاس نیٹو کا حملہ،’عام شہری ہلاک‘01 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||