BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 May, 2007, 01:32 GMT 06:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان سے مذاکرات کریں‘
نیٹو افواج سے کارروائیاں بند کرنے کو کہا گیا ہے
افغان پارلیمان کے ایوان بالا میں ارکان نے واضح اکثریت سے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ طالبان جنگجوؤں سے براہ راست مذاکرات کرے۔

اس مسودہ قانون کے ذریعے جسے ابھی ایوان زیریں میں بھی منظوری کے لیے پیش کیا جانا ہے نیٹو افواج سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مقامی طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں بند کر دے۔

اس مسودہ قانون کو قومی مفاہمتی بل کا نام دیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ وہ مقامی طالبان اور غیر ملکی جنگجوؤں کے درمیان امتیاز کرے اور مقامی طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان بھی تمیز کی جائے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بل ایک ایسے وقت پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے جب غیر ملکی افواج کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس کے علاوہ عام شہری کے حالات بہتر بنانے میں حکومتی ناکامی پر بھی لوگوں میں اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔

افغان امور کے تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں میں امریکی فوجیوں کے عام شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی شہروں میں اس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں اور ارکانِ پارلیمان اور صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر وہ اتحادی فوجوں کی کارروائیوں کو روک نہیں سکتے تو مستعفی ہو جائیں۔

طالبان سے مذاکرات کا مطالبہ
 ابھی تک امریکیوں اور افغان حکومت کی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح طالبان تحریک میں اختلافات پیدا کیئے جائیں اور معتدل عناصر کو حکومت میں شامل کر لیا جائے لیکن اس میں وہ ناکام ہوئے ہیں۔
رحیم اللہ یوسفزئی

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں افغانستان میں ایک نیا سیاسی اتحاد بھی بنا ہے جس میں سابق کیمونسٹ، مجاہدین اور ظاہر شاہ کے پوتے بھی شامل ہیں۔ اس اتحاد نے بھی حامد کرزئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک امریکیوں اور افغان حکومت کی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح طالبان تحریک میں اختلافات پیدا کیئے جائیں اور معتدل عناصر کو حکومت میں شامل کر لیا جائے لیکن اس میں وہ ناکام ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان رہنما ملاء عمر نے مذاکرات کے لیے بڑی کڑی شرائط رکھی ہیں جن میں سب سے پہلے غیر ملکیوں فوجیوں کو افغانستان سے انخلاء ہے۔ تاہم افغانستان میں جاری خون ریزی کو بند کرنے کے لیے اب طالبان پر بھی مذاکرات کے لیے عوامی دباؤ بڑھے گا۔

دریں اثناء افغانستان میں امریکی افواج نے دو ماہ قبل جلال آباد میں متعدد شہریوں کی ہلاکتوں اور ان کو زخمی کیے جانے پر معذرت کی ہے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکی فوجی دستے نے اپنے اوپر کیئے جانے والے خود کش حملے کے ردعمل میں بلا ضرورت طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کئی شہریوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا تھا۔

امریکی فوج کی فائرنگ میں آٹھ افغان ہلاک اور پینتیس کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

ایک امریکی فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ انہوں نے مرنے والوں کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقع پر انتہائی شرمندہ ہیں۔

امریکی حکومت نے مرنے اور زخمی ہونے والوں کو دو ہزار امریکی ڈالر معاوضہ ادا کیا ہے۔

گزشتہ مہینوں میں یہ اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ تھا جس میں امریکی فوج پر شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہو اور اس پر عوامی احتجاج بھی کیا گیا ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد