BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 April, 2007, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ننگرہار میں ’بےجا طاقت‘ کا استعمال
 نگر ہار میں امریکی فوجیوں کے مبینہ تشدد کے بعد کا منظر
اس واقعہ میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں نے افغانستان میں ایک خود کش بم حملے کے جواب میں ’ضرورت سے زیادہ تشدد‘ کا استعمال کر کے انسانی حقوق کے بین الاقوانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

چار مارچ کو ننگر ہار صوبے میں ہونے والے اس واقعہ میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے۔

افغانستان ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کا رد عمل ’غیرمتناسب‘ تھا۔ رپورٹ کے مطابق خصوصی کمانڈ یونٹ نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو بھی ہلاک کیا۔

اس واقعے کے بارے میں امریکی فوج کی اپنی ابتدائی تحقیقات میں بھی کہا گیا تھا کہ فوجیوں کا رد عمل غیرمتناسب تھا۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہری اور فوجی ٹھکانوں میں تمیز کرنے کے بجائے امریکی فوجی دستوں نے طاقت کا بےجا استعمال کیا اور ان کی یہ کارروائی انسانی حقوق سے متعلق عالمی ظابطوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ جلال آباد شہر کے نزدیک ننگرہار میں یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب فوجیوں کے ایک قافلے پر ایک خود کش بم دھماکہ ہوا اور فائرنگ کی گئی۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ننگرہار میں امریکی فوجیوں کی کارروائی کا نشانہ بننے والوں، پولیس اور ہسپتال کے افسران اور عینی شاہدین سے بھی بات کی جس سے بات سامنے آئی کہ فوجیوں نے شہریوں اور ان کی گاڑیوں پر اندھادھند فائرنگ کی تھی۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ننگر ہارمیں اس تشدد کے بعد کے مناظر سے متعلق ویڈیو فوٹیج سمیت اس کی تصاویر تک مٹا دیں۔اس واقعہ کے بعد نیٹو کی قیادت والی فوج کے تحت کام کرنے والے ان فوجیوں کو افغانستان سے باہر بھیج دیا گیا۔

صدر کرزئی کی تنقید
اتحادی افواج حکمت عملی بدلیں: کرزئی
حکومت کہاں ہے؟
’شمالی علاقے طالبان کے رحم و کرم پر ہیں‘
امریکی فوجیامریکیوں کی شکایت
اے پی کی امریکی فوج کےخلاف شکایت
امریکہ میں پاکستانی سفیر محمود علی درانیطالبان سے تعلقات
پاکستانی سفیر نے رپورٹ کی تردید کر دی
 ہلمندافغانستان میں نیٹو
جوانوں اور رسد کی کمی رہی تو کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد