’خودکش حملے میں تین بچے ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مشرقی حصے میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم تین بچے ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں کئی فوجی اور شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچے فوجی قافلے کے قریب تھے کہ جب حملہ آور نے اپنی کار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ حملہ کابل کے مشرق میں لغمان صوبے کے قریب ہوا ہے۔ نیٹو نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ پھانسی طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تینوں افراد نے غیرملکی افواج کے لیے جاسوسی کی تھی اور انہیں طالبان کے ایک اہم کمانڈر کی نقل وحرکت کے بارے میں آگاہ کیا تھا جس کے بعد غیر ملکی افواج نے اس کمانڈر کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ ان تینوں افراد کی لاشیں علاقے میں لٹکی ہوئی ہیں۔
پولیس اہلکار ہلاک اس حملے میں کم از کم تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کے پہلے قافلے پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا گیا جب وہ سپن بولدک اور شوراوک کے سرحدی علاقے میں معمول کے گشت پر تھے۔ اس حملے میں فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تاہم ہلاک اور زخمیوں کی زیادہ تعداد پہلے قافلے کی مدد کو پہنچنے والے پولیس کے دوسرے دستے میں شامل اہلکاروں کی ہے۔ یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ افغانستان میں موجود غیرملکیوں پر حملے تیز کردیں گے۔ |
اسی بارے میں افغانستان میں ’65 طالبان ہلاک‘24 June, 2006 | آس پاس افغانستان میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک04 March, 2007 | آس پاس افغانستان: برطانیہ مزیدفوج بھیجے گا23 February, 2007 | آس پاس افغانستان کی مزید فوجی امداد: نیٹو26 January, 2007 | آس پاس افغانستان میں 14 برطانوی ہلاک02 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||