عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | مدرسے کی تعمیر پر دو کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے |
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکومت اور کالعدم نفاذشریعت محمدی سے تعلق رکھنے والے دینی عالم مولانا فضل اللہ کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والے معاہدے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے میں مینگورہ سے چند کلومیٹر دور دریائے سوات کے کنارے آباد امام ڈیرئی میں قائم مولانا فضل اللہ کے دینی مرکز پہنچا۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ مولانا فضل اللہ اپنے غیر قانونی ایف ایم چینل پر پولیو کے خلاف مہم، لڑکیوں کے سکول جانے کی مخالفت اور جہاد کی افادیت پر تقاریر نہیں کرسکیں گے جبکہ اسکےجواب میں حکومت انکے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے سلسلے میں قائم دس مقدمات کو ختم کرنے کا قانونی راستہ تلاش کرےگی تاہم انہیں ایف ایم اسٹیشن چلانے کی مکمل اجازت ہوگی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ معاہدے کے بعد مولانا فضل اللہ کے مؤقف میں کچھ حد تک لچک آئی ہے تاہم وہ اب بھی جہاد کی افادیت پر اپنے نظریات کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایف ایم نشریات سے قبل مولانا فضل اللہ کو علاقے میں اتنی شہرت حاصل نہیں تھی مگر اب وہ علاقےمیں ایک مقبول مذہبی عالم کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
 | | | انکی رہائی کے لیےان کے تقریباً پانچ ہزار پیروکار موقع پر پہنچ گئے |
ان کے مطابق فضل اللہ کی تقاریر کا اثر قبول کرتے ہوئے درجنوں والدین نے اپنی بیٹیوں کو سکولوں سے نکال لیا ہے اور خود مولانا فضل اللہ ہر رات کو اپنی تقریر کے دوران ان والدین کواس کام پر مبارکباد بھی دیتے رہتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملاکنڈ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں بعض لوگوں نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔ مولانا فضل اللہ ایف ایم ریڈیو پر ہونے والی تقاریر میں پولیو کے خلاف مہم کو مغرب کی سازش اور ایک غیر شرعی عمل قرار دیتے ہیں۔ کلعدم نفاذ شریعت محمدی کے اسیر رہنما مولانا صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ کا مقامی لوگوں پر اثر نفوذ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب اپریل کے اواخر میں سوات میں مقامی انتظامیہ نے مولانا فضل اللہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو ایف ایم پر ہونےوالے ایک اعلان کے کچھ ہی دیر بعد انکی رہائی کے لیےان کے تقریباً پانچ ہزار پیروکار موقع پر پہنچ گئے اور پولیس نے انکی رہائی ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔
 | | | ایک نوجوان نے بتایا کہ کام کرنے والے مزدور نہیں ہیں بلکہ مقامی لوگ ہیں |
مولانا فضل اللہ نے مختصر سی ملاقات میں بتایا کہ وہ انیس سو ننانوے کے دوران افغانستان میں طالبان کے ہمراہ لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں اور جب دو ہزارایک میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ دس ہزار افراد کے اس لشکر میں بھی شامل تھے جو کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولاناصوفی محمد کی سربراہی میں امریکیوں کیخلاف افغانستان لڑنے گیا تھا۔ پاکستان واپس لوٹتے ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا اور انہیں سترہ ماہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں رکھا گیا۔انکے ایک بھائی قاری فضل الواحد گزشتہ سال باجوڑ کے ایک مدرسے پر ہونے والی بمباری میں ہلاک ہوگئے تھے۔مولانا فضل اللہ نے امام ڈیرئی میں دو کروڑ روپے کی لاگت سے ایک مدرسے کی تعمیر بھی شروع کر دی ہے اور بقول ان کے یہ رقم عطیات کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ان کے بقول مدرسے کو عطیات دینے میں عورتیں پیش پیش ہیں اور انہیں ایک دن میں بیس تولے تک سونا بھی بطور عطیہ ملا ہے۔ میں نے تقریباً پچاس افراد کو مدرسے کی تعمیر میں حصہ لیتے ہوئے پایا جنکا تعلق ڈاگئی گاؤں سے تھا۔ایک نوجوان نے بتایا کہ کام کرنے والے مزدور نہیں ہیں بلکہ وہ مقامی لوگ ہیں جو ایف یم پر مولانا کی ہونے والی سحر انگیز تقاریرسے متاثر ہوکرمذہبی جذبے کے تحت یہ کام سرانجام دے رہے ہیں۔ انکے مطابق ہر رات مولانا فضل اللہ ایف یم ریڈیو پر اعلان کرتے ہیں کہ کل فلاں گاؤں کی باری ہے لہذا اگلے ہی دن اس گاؤں کے تقریباً پچاس افراد اپنے ہمراہ دوپہر کا کھانا لاکر کام پر حاضر ہو جاتے ہیں۔
 |  مولانا فضل اللہ تصویرلینے کو ایک غیر اسلامی فعل سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نےاس شرط پرمدرسے کی تصاویر لینے کی اجازت دی کہ اس میں انسان نظر نہ آئے۔  |
میں نے دیکھا کہ جب دن بھر کی مشقت کے بعد ڈاگئی گاؤں کے ان مزدوروں کا پسینہ خشک ہواتو انہوں نےمولانا فضل اللہ کی امامت میں عصر کی نماز پڑھی اور پھر مولانا نے تقریباً آدھے گھنٹے کی اپنی تقریر میں ڈاگئی گاؤں کے لوگوں کو یہ بشارت دی کہ’ آپ لوگوں کو محنت کا صلہ حشر کے روز ملے گا۔‘مولانا فضل اللہ تصویرلینے کو ایک غیر اسلامی فعل سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نےاس شرط پرمدرسے کی تصاویر لینے کی اجازت دی کہ اس میں انسان نظر نہ آئے۔تصاویر لینے کے وقت کئی طالبان نے مجھے اپنے نرغے میں لے رکھا تھا اور وہ اس بات پر گہری نظر رکھ رہے تھے کہ کہیں میں چوری چھپے مولانا یاکسی اور کی تصویر نہ کھینچوں۔ میں واپس لوٹ ہی رہا تھا کہ میری نظر مدرسے کے حجرے کےسامنے کھڑے ایک طالب کے سائیکل پر پڑی جس پر لکھاگیا تھا: ’ ڈرنا مت یہ میرا اسٹائل ہے۔‘
|