BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: اسلحہ اور نقاب پر پابندی

شدت پسند(فائل فوٹو)
باجوڑ میں پہلے بھی اسلحہ لے کر چلنا ممنوع تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام نے علاقے میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر مردوں کے نقاب پہننے اور شہری علاقوں میں اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ گزشتہ روز سرکاری گاڑی پر بم حملے کے الزام میں چالیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

باجوڑ کے پولیٹکل ایجنٹ شکیل قادر نے منگل کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں امن وامان کی صورتحال پر قابو پانے اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں کو روکنے کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایجنسی کی حدود میں سکیورٹی فورسز کے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں نئی چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ باجوڑ میں پہلے بھی اسلحہ لے کر چلنا ممنوع تھا تاہم کچھ علاقوں میں لوگ اس پر عمل درآمد نہیں کر رہے تھے لیکن اب شہری علاقوں میں اس کی نمائش پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ سے ایجنسی کی حدود میں بعض مشتبہ افراد کو نقاب اوڑھے ہوئے دیکھا گیا ہے جس کی قبائلیوں نے بھی شکایت کی ہے اور ویسے بھی چہرہ ڈھانپنے سے دوست دشمن کی تمیز نہیں رہتی اسی وجہ سے نقاب پہننے پر بھی پابندی لگائی دی گئی ہے۔

باجوڑ میں گزشتہ چند ماہ کے دوران امن وامان کی صورتحال خراب رہی ہے۔گزشتہ روز بھی پولیٹکل انتظامیہ کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین سرکاری اہلکار زخمی ہوئے تھے۔اس سے قبل پولیٹکل انتظامیہ کا ایک اعلی اہلکار، مقامی صحافی نور حکیم اور قبائلی ملک سمیت پانچ افراد ایک نامعلوم بم حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔مقامی طالبان ان حملوں میں ملوث ہونے کی بار بار تردید کرچکے ہیں۔

 ایجنسی کی حدود میں بعض مشتبہ افراد کو نقاب اوڑھے ہوئے دیکھا گیا ہے جس کی قبائلیوں نے بھی شکایت کی ہے اور ویسے بھی چہرہ ڈھانپنے سے دوست دشمن کی تمیز نہیں رہتی اسی وجہ سے نقاب پہننے پر بھی پابندی لگائی دی گئی ہے۔
شکیل قادر

شکیل قادر کے مطابق گزشتہ روز کے حملے کے بعد چالیس مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جس میں افغان مہاجرین بھی شامل ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ مقامی طالبان ان واقعات میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں پھر کون لوگ ان کے پیچھے سرگرم عمل ہیں تو اس پر اعلٰی اہلکار کا کہنا تھا کہ ’میں کسی کا نام تو نہیں لے سکتاالبتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ باجوڑ کے افغانستان کے ساتھ 65 کلومیٹر کے سرحد کے اس پار ایک بھرپور جنگ لڑی جا رہی ہے جس میں ایسی قوتیں ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں‘۔

شکیل قادر نے مزید بتایا کہ حکومت کے پاس ان واقعات کو روکنے کے لیے ہر قسم کا آپشن موجود ہے لیکن وہ سختی نہیں برتنا چاہتی بلکہ افہام و تفہیم اور بات چیت سے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرےگی۔

اسی بارے میں
شدت پسندوں کو ’دھمکی‘
17 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد