BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 June, 2007, 18:20 GMT 23:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدت پسندوں کو ’دھمکی‘

پیمفلٹ کا عکس
پمفلٹ میں طالبان کو ’چور‘ کہا گیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پیمفلٹ تقسیم کئے گئے ہیں جن میں طالبان اور ’غیر ملکی شدت پسندوں‘ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں جاری حملے فوری طورپر بند کر دیں ورنہ ان کا مقابلہ خودکار اور آتشی اسلحہ سے کیا جائے گا۔

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح پاک افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں ایک افغان ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود میں داخل ہوا اور مختلف قسم کے پمفلٹ پھینک کر واپس چلاگیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق ان پمفلٹوں میں طالبان اور غیر ملکی جنگجوؤں کو افغان عوام کا دشمن قرار دے کر خبردار کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں حملے بند کردیں ورنہ ان کا مقابلہ خودکار اور آتشی اسلحہ سے کیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں تشویش
 شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات میں قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے چیک پوسٹوں پر ایف سی کی نفری بڑھا دی ہے اور مختلف علاقوں میں موجود پوسٹوں پر مزید مورچے قائم کردیئے گئے ہیں جبکہ پوسٹوں کے اردگرد دیواریں بھی تعمیر کی جارہی ہے۔
یہ پمفلٹ پشتواور فارسی زبان میں جاری کئے گئے ہیں جس میں گلبدین حکمت یار اور القاعدہ کو افغان بچوں کا دشمن قرار دیئے گئے ہیں۔

ادھر اطلاعات کے مطابق اسی قسم کے کچھ پمفلٹ پاکستانی ہیلی کاپٹر سے بھی تقسیم کئے گئے ہیں جس سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ ان پمفلٹ کی ایک کاپی بی بی سی کو بھی ملی ہے۔

پشتو زبان میں جاری کئے گئے پمفلٹ میں طالبان جنگجوؤں کو ہاتھ میں اسلحہ تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ان کی تصویروں پر کراس کا نشانہ لگا کر انہیں
’چور‘ کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔ پمفلٹ میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ طالبان اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے بارے میں اتحادی افواج کو اطلاع دیں تاکہ ان بچوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔

مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ ان پمفلٹ کی تقسیم سے لوگوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہیں خوف ہے کہ کہیں باجوڑ کی طرح یہاں بھی کوئی فضائی کارروائی نہ کی جائے۔

پاکستان میں فوجی ترجمان میجر جنرل وحید ارشد سے رابط کیا گیا تو انہوں نے پمفلٹس کی تقسیم سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی اطلاع نہیں کہ کسی پاکستانی ہیلی کاپٹر نے وزیرستان میں کوئی پمفلٹ تقسیم کیا ہو۔

ادھر شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات میں قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے چیک پوسٹوں پر ایف سی کی نفری بڑھا دی ہے اور مختلف علاقوں میں موجود پوسٹوں پر مزید مورچے قائم کردیئے گئے ہیں جبکہ پوسٹوں کے اردگرد دیواریں بھی تعمیر کی جارہی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ اقدامات جنوبی وزیرستان سے غیر ملکیوں کی شمالی وزیرستان آمد کی اطلاع پر کئے گئے ہیں تاہم حکام نے اسے معمول کی کارروائی قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد