عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | انتہاپسند مدارس پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی: شیر پاؤ |
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں طالبانائزیشن کے عمل سے نمٹنے کے لیے ضلعی سطح پر سیاسی پارٹیوں پر مشتمل امن کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن میں ان طالبان کو بھی شامل کیا جائےگا جو دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہیں۔ پشاور میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں صوبہ سرحد میں انتہاپسندی اور طالبانائزیشن کی وجوہات اور اس سے نمٹنے کے لیے بعض اقدامات پر اتفاق کیا گیا جس پر بہت جلد عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد میں ضلعی سطح پر تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں بنائی جائیں گی اور اسکے علاوہ پولیس، فرنٹئر کور اور کانسٹبلری کو مطلوبہ ضروریات اور تربیت فراہم کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں بنائی جانے والی کمیٹیوں میں صرف ان طالبان کو شامل کیا جائے گا جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث نہیں ہیں۔انکے مطابق قومی سلامتی کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ انتہاپسندی کی پرچار کرنے والے مدارس پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔
 | پنجابی طالبان  وزیر داخلہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جنوبی وزیرستان میں پنجابی طالبان موجود ہیں تاہم انہوں نے اس کی تردید کی کہ غیر ملکیوں کے خلاف مقامی طالبان کےکمانڈر ملا نذیر کی سربراہی میں ہونے والی لڑائی میں پنجابی طالبان نے کوئی حصہ لیا تھا  |
وزیر داخلہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جنوبی وزیرستان میں پنجابی طالبان موجود ہیں تاہم انہوں نے اس کی تردید کی کہ غیر ملکیوں کے خلاف مقامی طالبان کےکمانڈر ملا نذیر کی سربراہی میں ہونے والی لڑائی میں پنجابی طالبان نے کوئی حصہ لیا تھا۔بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیا ہے اور حکومت عدالت کے کسی بھی فیصلے پر مکمل طور پر عملدر آمد کرائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کراچی کے دورے کے دوران پشتونوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں پرامن رہنے کی تلقین کی تا کہ وہاں کسی قسم کے لسانی فسادات نہ ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں آباد پشتون احساس محرومی کے شکار ہیں جن میں ٹرانسپورٹ، پانی ، سکول، شناختی کارڈ کی اجراء میں مشکلات جیسے مسائل شامل ہیں اور انہوں نے یہ تمام مسائل سندھ اور مرکزی حکومت کے ساتھ اٹھائے ہیں۔ وزیر داخلہ نے اس خیال کو رد کردیا کہ جنرل پرویز مشرف حالیہ عدالتی بحران میں اپنے اتحادیوں سے نالاں ہیں۔
 | | | کراچی میں آباد پشتون احساس محرومی کے شکار ہیں |
وزیر داخلہ سے جب پوچھا گیا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو تین جولائی کو کراچی کا دورہ کرنا چاہیے تو آفتاب شیرپاؤ نے مختصر ساجواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ تین جولائی کی تاریخ اب بھی بہت دور ہے۔،جب ان کی توجہ افغانستان کے قندہار صوبے کے گورنر اسداللہ پشتون کے اس بیان کی جانب مبذول کرائی گئی کہ انہوں نے وہاں پر کچھ بلوچوں کو پناہ دی ہے تو وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ’ بے شک وہاں پر بعض بلوچ موجود ہیں جو روایتی طور پر وہاں آتے جاتے ہیں اور حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کہیں وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال تو نہیں کر رہے ہیں۔‘ انکے مطابق دونوں ممالک میں ناپسندیدہ عناصر کو پناہ دینے کا موضوع اگست کے پہلے ہفتے میں افغانستان کے دارلحکومت کابل میں ہونے والے مشترکہ جرگے کے ایجنڈے میں بھی شامل ہے۔
|