BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 June, 2007, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ ہلاکتوں سے تعلق نہیں: طالبان

طالبان
حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد باجوڑ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے گزشتہ روز ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار، مقامی صحافی اور قبائلی ملک سمیت پانچ افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔

باجوڑ میں امن جرگہ کے سربراہ ملک عبدالعزیز نے اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ان کی طالبان شوریٰ کے ارکان سے رابطہ ہوا ہے، جس میں انہوں نے سنیچر کی شام سالار زئی تحصیل کے علاقے میں ہونے والے واقعہ سے مکمل طورپر لاتعلقی کا اظہار کیاہے۔

یاد رہے کہ پولیٹکل تحصیدار وصال خان ، مقامی صحافی نور حکیم، قبائلی ملک نازکئی اور ان کا بیٹا پرویز اور سپاہی حسن محمد سنیچر کی شام ایک گاڑی میں صدر مقام خار آ رہے تھے کہ سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے پانچوں افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔

ملک عبد العزیز کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فقیر محمد اور ان کے ساتھی اس واقعہ پر سخت رنجیدہ ہیں اور انہوں نے دھماکے میں ہلاکتوں کو علاقے میں جاری امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

حکومتِ پاکستان مولوی فقیر محمد اور ان کے حامیوں پر باجوڑ میں غیر ملکیوں کو پناہ دینے اور ان کی مدد کرنے کے الزامات لگاتی آ رہی ہے۔

جرگہ اور پولیو مہم
 ہلاک ہونے والے پانچوں افراد ملا سید کے علاقے میں پولیو کی مہم سے وابستہ ڈاکٹر عبد الغنی کے قتل میں ملوث افراد کاگھر جرگہ کے حکم پر مسمار کر کے آ رہے تھے کہ سلار زئی تحصیل میں ان پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا

امن جرگہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کل کا واقعہ ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والے واقعات کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد علاقے میں خوف وہراس پھیلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں غیر ملکی عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں، تاہم انہوں نے کسی کا نام لینے سے گریز کیا۔

ہلاک ہونے والے پانچوں افراد کی تدفین باجوڑ اور نوشہرہ میں کی گئی، جس میں قبائلیوں اورسرکاری اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

باجوڑ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کو پیش آنے والے واقعہ میں ہلاک ہونے والے تحصیلدار اور قبائلی ملک کو بعض نامعلوم افراد کی طرف سے کچھ دنوں سے قتل کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

ہلاک ہونے والے پانچوں افراد ملا سید کے علاقے میں پولیو کی مہم سے وابستہ ڈاکٹر عبد الغنی کے قتل میں ملوث افراد کاگھر جرگہ کے حکم پر مسمار کر کے آ رہے تھے کہ سلار زئی تحصیل میں ان پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا۔

اس سال مارچ کے ماہ میں مقامی قبائل نے حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدہ پر دستخط کئے تھے جس کے تحت انہوں نے علاقے میں غیر ملکیوں کو پناہ فراہم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس معاہدے کے بعد باجوڑ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ ہے۔

باجوڑ سے براہ راست
باجوڑ پر بمباری: آدھا سچ، آدھا جھوٹ
’سراسر غلط بیانی‘
’کوئی کیمپ نہیں تھا، حکومت جھوٹ بولتی ہے‘
 متحدہ مجلس عمل کی حکومت بھی زخمیوں کو نظرانداز کررہی ہےباجوڑ کے تین زخمی
شدت پسند یا معصوم؟ حکومت خاموش کیوں؟
باجوڑ: خوش آمدید
ایمن الظواہری آئیں تو فخر ہوگا: مُلا فقیر محمد
اسی بارے میں
باجوڑ میں رات کا کرفیو
08 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد