رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | فائل فوٹو: باجوڑ مدرسے پر بمباری |
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام نے صدر مقام خار اور بڑے تجارتی مرکز عنایت کلی میں رات کے وقت لوگوں کے بغیر ضرورت کے گھروں سے نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ احکامات مقامی پولیٹکل انتظامیہ نے جمعرات کو تاجر برادری اور مقامی عمائدین سے ملاقاتوں کے بعد جاری کیے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ باجوڑ میں میوزک سنٹروں اور حجاموں کے دکانوں پر ہونے والے حالیہ بم حملوں اور ان کو ملنے والی دھمکیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ چند ہفتے قبل باجوڑ میں نامعلوم افراد کی طرف سے پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے جس میں مقامی موتراشوں کو دھمکیاں دی گئی تھیں کہ وہ لوگوں کے شیو نہ بنائے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں موسیقی سننے والوں کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عنایت کلی اور خار میں رات اٹھ بجے کے بعد لوگوں کو بغیر ضرورت کے گھروں سے نکلنے پر پابندی ہوگی جبکہ رات کے وقت علاقے میں سیکورٹی فورسزز کے گشت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ اقدامات علاقے میں رات کے وقت ہونے والے بم دھماکوں اور سرکاری چیک پوسٹوں پر حملوں کو روکنے کے لئے اٹھائے گئے ہیں۔ باجوڑ میں امن وامان کی صورتحال گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدہ بتائی جاتی ہے جبکہ رات کے وقت سرکاری چیک پوسٹوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ |