ایم ایم اے کے لیے لمحہ فکریہ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں بدھ کے ضمنی انتخاب کا سیاسی مبصرین کئی حوالوں سے تجزیہ کر رہے ہیں۔ کوئی اسے بدلتے حالات اور سیاسی رجحان کا عندیہ قرار دے رہا ہے تو بعض اسے معمول کے نتائج مان رہے ہیں۔ جو بھی ہو ایک بات صاف ہے کہ ان انتخابات نے دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل پر ایک بات ضرور واضح کر دی ہے اور وہ ہے اتفاق اور اتحاد کی اہمیت۔ ایم ایم اے اس ضمنی انتخاب میں متحد نہ رہ سکی جس کا فائدہ اس کے سیاسی مخالفین نے بھرپور انداز میں اٹھایا۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ ہارون رشید نے قومی اسمبلی کی نشست این اے چوالیس سے بقول ان کے ’اصولی اور اخلاقی بنیاد‘ پر استعفی دے دیا تھا۔ اس کی وجہ پاکستانی فوج کی باجوڑ کے ایک مدرسے پر گزشتہ اکتوبر میں بمباری تھی جس کے نتیجے میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی کے اس فیصلے سے متحدہ مجلس عمل کی دوسری بڑی جماعت جمعیت علماء اسلام بظاہر خوش نہیں تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ مستعفی ہونے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے بغیر کسی مشورے کے کیا۔ اس ناراضگی کا ردعمل جے یو آئی نے جماعت کی الیکشن بائیکاٹ کی کال کی حمایت نہ کر کے کیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ جے یو آئی نے بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا۔ اس صورتحال میں ضمنی انتخاب کے دوران منقسم متحدہ مجلس عمل کا بھرپور فائدہ مخالفین نے اٹھایا۔ اسی لیئے سیاسی مبصرین اس انتخاب کو مذہبی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی جماعتوں کو آئندہ عام انتخابات سے قبل بدلتے رجحانات کا پتہ دے رہا ہے۔ سن دو ہزار دو کے عام انتخابات میں دینی جماعتوں کا اتحاد افغانستان کی صورتحال اور امریکہ مخالف جذبات کا بھرپور فائدہ سرحد اور بلوچستان میں غیرمعمولی انتخابی کامیابی کی صورت میں حاصل کر سکا تھا تاہم تجزیہ نگاروں کے بقول اس مرتبہ اس کے لیے ایسا کرنا شاید مشکل ہو۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ تو ہمسایہ ملک میں نہیں بلکہ اپنے علاقے یعنی باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ اور چینگئی جیسے بڑے واقعات ہوئے پھر بھی وہ ان کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ ایک سوال بار بار ذہنوں میں اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ مذہبی جماعت افغانستان پر مسلط جنگ تو کیش کرنے میں کامیاب رہی تاہم خود باجوڑ میں ایسا نہ کر سکی۔ اس کی بظاہر کئی وجوہات دکھائی دیتی ہیں۔ ایک تو ایم ایم اے کا تقسیم ہونا، دوسرا آخری انتخابی سال میں استعفی اور تیسرا قوم اور برادری کی بنیاد پر بڑی تعداد میں ووٹ کا پڑنا۔ باجوڑ کے ووٹر اب شاید سمجھتے ہیں کہ اگر مستعفی ہی ہونا تھا تو ڈمہ ڈولہ کے واقعے کی بعد بھی ہوا جا سکتا تھا لہذا اس مرتبہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کہ عام انتخابات کو محض ایک برس رہ گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی اس چار برسوں میں کارکردگی بھی شاید کوئی اتنی قابل ذکر نہیں کہ ووٹر ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ووٹ نہ ڈالتے۔ جماعت اسلامی اپنے کٹر ووٹروں کو تو شاید پولنگ سٹیشن سے دور رکھنے میں کامیاب رہی تاہم دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی قبیلے اور قوم کی بنیاد پر اپنے حامیوں کو اس مرتبہ متحرک کرنے میں کامیاب رہی۔ سن دو ہزار دو کے عام انتخابات میں باجوڑ میں اکتیس ہزار ووٹ پڑے تھے یعنی ووٹر ٹرن آؤٹ اکیس فیصد تھا۔ اس مرتبہ اگر اکتیس نہیں تو چوبیس پچیس ہزار ووٹ ضرور پڑے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کی کال پر لوگوں نے کوئی زیادہ کان نہیں دھرے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سربراہ بشیر بلور کے ایک بیان کے مطابق ان کی پارٹی آئندہ انتخابات میں لینڈ سلائڈ کامیابی حاصل کرے گی۔ باجوڑ کے انتخاب نے ان کی ہمت بڑھائی ضرور ہے لیکن یہ شاید اتنا آسان نہ ہو۔ اس کامیابی کی وجہ ایم ایم اے میں انتشار تھا نہ کہ اے این پی کی کارکردگی۔ مبصرین کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کی جیت صدر پرویز مشرف کے لیے اچھا شگون تصور کر رہے ہیں جو لوگوں کو میانہ رو سیاسی عناصر کو آئندہ عام انتخابات میں کامیاب کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں جے یو آئی: استعفوں کا فیصلہ ترک06 December, 2006 | پاکستان باجوڑ انتخابات، اے این پی کامیاب10 January, 2007 | پاکستان باجوڑ: بائی الیکشن، تیاری مکمل08 January, 2007 | پاکستان رکن اسمبلی نے استعفٰی پیش کر دیا12 November, 2006 | پاکستان حملہ امریکہ نےکیا: ارکان اسمبلی30 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||