باجوڑ انتخابات، اے این پی کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں بدھ کو قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب ابتدائی غیرسرکاری نتائج کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے شہاب الدین خان نے اٹھارہ ہزار ووٹوں سے ’جیت‘ لیا ہے۔ تازہ اطلاعات ملنے تک چند دور افتادہ پولنگ سٹیشنوں کے نتائج باقی تھے تاہم شہاب الدین نے اپنے مخالف امیدوار سے اتنی سبقت حاصل کر لی ہے کہ ان کی جیت یقینی ہے۔ شہاب الدین نے گزشتہ عام انتخابات میں آٹھ ہزار چار سو ووٹ حاصل کیے تھے لیکن وہ جماعت اسلامی کے ہارون رشید سے ہار گئے تھے۔ اس مرتبہ ان کی انتخابی مہم اور ووٹنگ کے روز غیرموجودگی کے باوجود حاصل کیے گئے ووٹوں کی تعداد اس مرتبہ دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے۔ شہاب الدین حج کے سلسلے میں آج کل سعودی عرب میں ہیں۔ حکمراں مسلم لیگ (ق) کے امیدوار سید بادشاہ چار ہزار سات سو ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
سیاسی مبصرین ووٹروں کے ٹرن آؤٹ پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اس الیکشن کے بائیکاٹ کے لئے تحریک چلائی تھی تاہم اب تک کے ووٹوں کی گنتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ووٹروں نے ان کی اپیل پر کان نہیں دھرے۔ قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب جماعت اسلامی کے احتجاج کے باجود پرامن طریقے سے مکمل ہوا۔ عورتوں نے انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔ قومی اسمبلی کی نشست این اے چوالیس جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ ہارون رشید کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ استعفی باجوڑ میں ایک مدرسے پر بمباری سے اسی افراد کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف بطور احتجاج دیا تھا۔ اس احتجاج کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سڑکوں پر مارچ کیا اور دھرنا دیا۔ تاہم یہ احتجاج پرامن رہا۔ اسی قسم کے سیاہ پرچموں کے احتجاجی مظاہرے پشاور اور مینگورہ میں بھی منعقد ہوئے جن میں مظاہرین نے حکومت اور امریکہ مخالف نعرہ بازی کی۔ مقررین نے اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی پر انتخابات میں حصہ لینے پر کڑی تنقید کی اور اس پر مدرسے میں ہلاک ہونے والوں سے غداری تعبیر کیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی جیت سیاسی مبصرین کے مطابق صدر پرویز مشرف کے لیے اچھا شگون تصور کیا جا رہا ہے۔ صدر عوامی جلسوں میں لوگوں کو میانہ رو سیاسی عناصر کو آئندہ عام انتخابات میں کامیاب کرنے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔ بدھ کے روز پولنگ کے دوران کسی بھی علاقے سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تاہم کل رات نامعلوم افراد نے کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز کی چوکیوں اور پولنگ سٹیشنوں پر راکٹ داغے جن سے دو لیویز اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ باجوڑ کے پولیٹکل ایجنٹ شکیل قادر نے دن بھر کی انتخابی سرگرمی کے بارے میں کہنا تھا کہ ووٹروں کی رش دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کہیں بھی کوشش نہیں کی گئی۔ باجوڑ میں دو ہزار دو کے عام انتخابات میں اکیس فیصد ووٹ پڑے تھے اور پولیٹکل ایجنٹ کے بقول اس مرتبہ بھی یہ تعداد اس جتنی اگرچہ نہیں تو اس کے قریب ضرور ہوگی۔ مقامی انتظامیہ نے حساس پولنگ سٹشنوں پر بڑی تعداد میں لیویز اور ایف سی تعینات کر رکھی تھی۔ | اسی بارے میں باجوڑ: بائی الیکشن، تیاری مکمل08 January, 2007 | پاکستان مستعفی ایم این اے ہارون الرشید رہا30 November, 2006 | پاکستان باجوڑ ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ03 December, 2006 | پاکستان باجوڑ میں اے این پی کا جلوس 15 November, 2006 | پاکستان ’باجوڑ میں مرنے والے دہشتگرد تھے‘28 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: حکومت، اپوزیشن اختلافات14 November, 2006 | پاکستان باجوڑ دھماکے میں تین افراد زخمی19 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||