BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 January, 2007, 11:37 GMT 16:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: بائی الیکشن، تیاری مکمل

احتجاج (فائل فوٹو)
جماعت اسلامی نے دوسرے روز بھی انتخاب کے خلاف اپنا احتجاجی دھرنا جاری رکھا (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشست (این اے چوالیس) کے لیے بدھ کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ تاہم جماعت اسلامی نے اس روز یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

امیدواروں نے پیر کو انتخابی مہم کے آخری روز جلسے جلوس منعقد کیے جبکہ جماعت اسلامی نے دوسرے روز بھی انتخاب کے خلاف اپنا احتجاجی دھرنا جاری رکھا۔

اس وقت میدان میں حکمران مسلم لیگ (ق) اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہیں تاہم جماعت اسلامی نے اس انتخاب کے بائیکاٹ کے لیے مہم چلا رکھی ہے۔

جماعت اسلامی کے صاحبزادہ ہارون رشید نے تیس اکتوبر کو باجوڑ کے ایک مدرسے پر پاکستانی فوج کی بمباری کے نتیجے میں اسی افراد کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف بطور احتجاج اس نشست سے استعفی دے دیا تھا۔

ان کی جماعت نے انتخابی مہم کے ابتدائی دنوں میں یہ انتخاب منسوخ نہ کیئے جانے کی صورت میں پولنگ سٹاف کو کام نہ کرنے اور بیلٹ باکس توڑنے کی دھمکی دی تھی۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین دوسری ایسی جماعت ہے جس نے اس بائیکاٹ میں جماعت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اپنے موقف کے حق میں جماعت نے جلسے کیے اور جلوس نکالے۔

 جماعت اسلامی کے صاحبزادہ ہارون رشید نے تیس اکتوبر کو باجوڑ کے ایک مدرسے پر پاکستانی فوج کی بمباری کے نتیجے میں اسی افراد کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف بطور احتجاج اس نشست سے استعفی دے دیا تھا

اس احتجاج میں جماعت اسلامی کو سیاسی دھچکا اپنے ہی اتحادی جعمیت علماء اسلام کی حمایت نہ ملنا تھا۔ جے یو آئی کے اس بائیکاٹ کا ساتھ نہ دینے کا اعلان کرنے سے جماعت اسلامی کو سیاسی خفت ضرور ہوئی ہوگی۔ جے یو آئی نے حمایت کے برعکس جماعت پر تنقید کو اور اس پر جمہوری عمل کو روکنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

ابتداء میں عوامی نیشنل پارٹی کے شہاب الدین، مسلم لیگ کے مقامی صدر سید بادشاہ اور آزاد امیدوار ڈاکٹر نور علی، گل افضل، احسان اللہ اور نوابزادہ نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ ماسوائے احسان اللہ کے باقی تین آزاد امیدواروں نے بعد میں کاغذات واپس لے لیے۔

باجوڑ کی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو انتخابی عمل میں خلل نہ ڈالنے کی گزارش کے ساتھ مقامی قبائلی عمائدین کا ایک جرگہ بھی بھیجا لیکن یہ وفد اسے اپنے فیصلے سے ہٹانے میں ناکام رہا۔ البتہ جماعت نے اپنے احتجاج کو پرامن رکھنے کی یقین دہانی ضرور کروائی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول اصل مقابلہ عوامی نیشنل پارٹی کے شہاب الدین اور مسلم لیگ کے سید بادشاہ کے درمیان ہے۔ شہاب کو ہارون رشید سن دو ہزار دو کے عام انتخابات میں شکست دے چکے ہیں۔ انہیں ترکانی قبیلے جبکہ ان کے مخالف شید بادشاہ کو اتمان خیل کی حمایت حاصل ہے۔

ماضی کی روایت کے مطابق ترکانی قوم کا شخص ہی قومی اسمبلی میں باجوڑ کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔ لیکن اس مرتبہ پہلی مرتبہ اتمان خیل قوم نے بھی متفقہ طور پر سید بادشاہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس سے ان کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔ انہیں قدرتی طور پر وفاقی حکومت اور گورنر سرحد کی پس پشت سرپرستی بھی حاصل ہے۔

 سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول اصل مقابلہ عوامی نیشنل پارٹی کے شہاب الدین اور مسلم لیگ کے سید بادشاہ کے درمیان ہے۔ شہاب کو ہارون رشید سن دو ہزار دو کے عام انتخابات میں شکست دے چکے ہیں۔ انہیں ترکانی قبیلے جبکہ ان کے مخالف شید بادشاہ کو اتمان خیل کی حمایت حاصل ہے

سیاسی وابستگیاں کچھ بھی ہوں عام خیال ہے کہ عوام اس انتخاب میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں لیں گے۔ ڈمہ ڈولہ اور مدرسے پر بمباری کے واقعات پر ان میں اب بھی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کم ووٹ پرنے کی ایک اور وجہ اس اسمبلی کا ایک برس سے بھی کم مدت رہ جانا بھی ہے۔ ووٹر جانتے ہیں کہ اتنی مختصر مدت میں کوئی بھی امیدوار ان کے لیے ان کے مسائل کے حل میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں لاسکے گا۔

عوام کے لیے نہ سہی لیکن امیدواروں کے لیے یہ ضمنی الیکشن اب بھی اہم ہے۔ دونوں امیدوار ووٹروں کو سبز باغ بدستور دکھا رہے ہیں۔ ایک انہیں سیاہ قانون
کہلوانے والے ایف سی آر سے نجات کے وعدے کر رہا ہے تو دوسرا بے روزگاری کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھانے کی لالچ دے رہے ہیں۔

باجوڑ میں درج شدہ ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ بتیس ہزار ہے جن میں سے چون ہزار عورتیں ہیں۔ تاہم ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی عورتوں کے ووٹ ڈالنے کا امکان نہیں ہے۔ قبائلی روایت کا سہارا لے کر امیدوار انہیں اس معرکے سے دور رکھ رہے ہیں۔

دو بڑے امیدوار کتنے ووٹ لے پاتے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کتنے ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں سے دور رکھ پاتی ہے یہ بدھ کو واضع ہوجائے گا تاہم باجوڑ میں یہ ایک انوکھا لیکن دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ضرور ملے گا۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں اے این پی کا جلوس
15 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد