باجوڑ ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دس جنوری کو باجوڑ ایجنسی کے حلقہ این اے 44 میں اعلان کردہ ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا جائے گا جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) باجوڑ نے اس فیصلے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں ایک قبائلی جرگے سے خطاب کے بعد بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید نے کہا کہ حلقہ این اے 44 باجوڑ میں ضمنی انتخاب کسی بھی صورت نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ صرف ان کا یا جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ یہ فیصلہ پورے باجوڑ کے عوام کا ہے جنہوں نے آج جرگے میں شرکت کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ باجوڑ کے 80 بچوں کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے اور مسجد اور دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا ہے تو ان حالات میں باجوڑ کے عوام ان کے بقول کیسے ’ فراڈ‘ الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔ سابق ایم این اے نے کہا کہ اگر کسی نے انتخابات کےلئے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تو باجوڑ کے عوام ان کے گھروں کا گھیراؤ کریں گے جبکہ پولنگ سٹیشنوں کا بھی محاصرہ کیا جائے گا۔ ہارون رشید کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ ایم ایم اے کا نہیں بلکہ پورے باجوڑ کے عوام کا ہے۔ 80 طلباء شہید ہوئے ہیں جو کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ کوئی دوسری پارٹی بائیکاٹ کرتی ہے یا نہیں کرتی ہم تو یہ انتخابات کسی بھی صورت میں نہیں ہونے دیں گے‘۔
دوسری طرف باجوڑ ایجنسی کے دوسرے حلقے این اے 43 سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی اور متحدہ مجلس عمل باجوڑ کے امیر مولانا صادق نے جماعت اسلامی کے اس فیصلے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بحیثیت امیر ایم ایم اے انہیں اس سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ استعفے کے معاملے پر جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے درمیان اختلافات ہیں۔ مولانا صادق کا کہنا تھا کہ ان کا تو یہ مطالبہ ہے کہ باجوڑ کے مسئلے پر ایم ایم اے کے تمام اراکین پارلمینٹ سے مستعفی ہوجائیں لیکن باقاعدہ طریقہ کار کے تحت۔ انہوں نے واضح کیا کہ صاحبزادہ ہارون رشید کا استعفٰی ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے لیکن یہ ایم ایم اے کا فیصلہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ باجوڑ کے حلقہ 44 سے جماعت اسلامی کے ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید نے تیس اکتوبر کو باجوڑ میں دینی مدرسے پر فوجی کاروائی کے نتیجے میں 80 افراد کے ہلاکت کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مذکورہ حلقے میں ضمنی انتخابات کے لئے دس جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے جس کے لئے کاغذات نامزدگی کی آخری تاریخ پانچ دسمبر مقرر کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ مدرسہ کا دوبارہ سنگ بنیاد09 November, 2006 | پاکستان درگئی اور باجوڑ: آخر تعلق کیا ہے؟11 November, 2006 | پاکستان باجوڑ حملہ امریکہ نے کیا تھا: رپورٹ13 November, 2006 | پاکستان باجوڑ میں اے این پی کا جلوس 15 November, 2006 | پاکستان ’باجوڑ میں مرنے والے دہشتگرد تھے‘28 November, 2006 | پاکستان مستعفی ایم این اے ہارون الرشید رہا30 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||