BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 July, 2007, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی قافلے پر حملہ، سترہ ہلاک

فوجی قافلے پر حملہ
چشمہ پل پر چار گاڑیوں کے قافلے پر حملے میں ایک گاڑی مکمل تباہ ہوگئی
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب ایک فوجی قافلے پر حملے میں سترہ فوجی ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے ہیں۔

میران شاہ کی پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ مدہ خیل کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب لواڑہ منڈی سے میران شاہ آنے والے ایک قافلے پر پہاڑیوں میں چھپے ہوئے مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا۔

انتظامیہ کے مطابق جس جگہ حملہ ہوا وہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اس حملے میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔

وزیرستان میں حملے
News image
 پولیٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ہی میر علی کے مقام پر ایک حفاظتی چوکی پر بھی حملہ کیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں

فوج کے شعبۂ تعلقات ِعامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل وحید ارشد نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے میں سولہ فوجیوں کے علاوہ حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی فوجیوں کو بنوں کے ملٹری ہسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں لائے جانے والے مزید ایک فوجی نے دم توڑ دیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے آج خطے میں فوجی اہداف پر ہونے والے دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ چشمہ پل اور مدہ خیل کے علاقوں میں ہونے والے حملے طالبان جنگجوؤں کی کارروائی تھی۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ چشمہ پل پر چار گاڑیوں کے قافلے پر حملے میں ایک گاڑی مکمل تباہ ہوگئی جبکہ مدہ خیل کے علاقے میں کافی بڑے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس سے چھ گاڑیاں تباہ اور ان میں بیٹھے ہوئے فوجی ہلاک ہوگئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی البتہ انہوں نے اپنے نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

فوج
میران شاہ میں فوج کا گشت جاری ہے اور مقامی طالبان کا بھی کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی

یاد رہے کہ چشمہ پل پر ہونے والے دھماکے میں میران شاہ سے بنوں جانے والا چار گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلے میں شامل ایک گاڑی چشمہ پل کے قریب ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی۔

ادھر وزارت داخلہ کی جانب سے حکام کو جاری کیے گئے ایک سرکاری حکم نامے میں مطلع کیا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نے پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے مولوی غنم زر کے ہمراہ سات یا آٹھ افراد دتہ خیل سے روانہ کیے ہیں۔

بی بی سی کو ملنے والی سرکاری دستاویز کے مطابق انہیں روانہ کرنے کا فیصلہ مقامی طالبان کے ساٹھ افراد ایک اجلاس میں ہوا تھا جس میں مولوی گل بہادر اور مولوی شربت کھدرخیل نے شرکت کی تھی۔

سرکاری دستاویز کے مطابق غنم زرگروپ ماضی میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ تاہم طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی نے اس خبر کو بےبنیاد قرار دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرنے کے لیے انہیں وزیرستان سے افراد روانہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
وزیرستان امن معاہدہ
فریقین معاہدے پرعمل کریں گے: رکن جرگہ
اسی بارے میں
خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک
14 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد