اسلام آباد: دھماکے کے بعد کا منظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلعی عدالت کے قریب منگل کی شب ہونے والے دھماکے کی جگہ آج تمام دن لوگوں کا ہجوم رہا۔ اردگرد کے علاقے میں کاروبار زندگی بند رہا اور بعد دوپہر آنے والے دکاندار اپنی دوکانوں کے شیشوں کی کرچیاں سمیٹتے رہے۔ اس دھماکے میں 15 افراد کے ہلاک اور پینتیس کے زخمی ہو نے کی تصدیق کی گئی تھی۔ چیف جسٹس کے لیے پیپلز پارٹی کے استقبالیہ جلسے میں ہو نے والے اس دھماکے کی جگہ پر اب بھی متاثرین کی ذاتی اشیاء بکھری پڑی ہیں جن میں چپل، خون آلود ٹوپی، کسی کا پرس، ایک خاتون کا دوپٹہ، پیپلز پارٹی کے جلے اور پھٹے ہوئے جھنڈے، ادھ جلی کرسیاں اور ٹینٹ وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن مجمع کی توجہ کا مرکز وہ درخت تھاجو شاید دھماکے سے بہت قریب تھا۔ درخت کے جلے ہوئے تنے پر خون کے لوتھڑے کسی قیامت کے گزر جانے کا پتہ دے رہے تھے۔ دن بھر تحقیق کاروں کی مختلف ٹیموں نے بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ خاص طور پر فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے خصوصی تحقیقاتی سیل کے اہلکار تو دھماکے کی جگہ سے کچھ شواہد بھی اکٹھے کر کے اپنے ہمراہ لے گئے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایک دن گزرنے اور دھماکے کی جگہ پر بلا روک ٹوک لوگوں کی آمدو رفت کے بعد وہاں کونسا ثبوت بچا رہ گیا ہوگا۔ دھماکہ ایف ایٹ مرکز کے اس حصے میں ہوا تھا جو اس علاقے کا تجارتی مرکز بھی ہے۔ اردگرد کے اونچے اونچے پلازوں کی پہلی دو منزلوں پر دکانیں ہیں اور اوپر کی منزلوں پر وکلاء نے دفاتر جما رکھے ہیں۔ آج دوپہر کے بعد ڈرے سہمے دکاندار جب اپنی دوکانوں پر واپس آئے تو ٹوٹے ہوئے شٹرز اور شیشوں نے انکا استقبال کیا۔ بیشتر لوگ جلسے جلوس میں گاہکوں کے نہ آنے کے خدشات کے باعث دھماکے سے بہت پہلے دکانیں بند کر کے جا چکے تھے۔ اس کے باوجود تاجروں کی مقامی تنظیم کے سیکٹری جنرل قمر عباسی کے بقول جو دوکانیں کھلی رہ گئی تھیں ان میں موجود دکانداروں میں سے تین اس دھماکے کے قریب ہونے کے باعث ہلاک ہوئے اور دس سے زائد زخمی ہیں۔ قمر عباسی کا کہنا تھا کہ ’اس سانحے کے بعد اسلا آباد میں کاروباری حالات جو لال مسجد آپریشن کے آغاز کے وقت سے ہی خرابی کا شکار تھے، اب تو با لکل دگرگوں ہو جائیں گے‘۔ دھماکے کی جگہ سے چند سو فٹ کے فاصلے پر ایک بیوٹی پارلر کے باہر موجود خاتون اپنی دکان کو ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہی تھیں۔صبیحہ نے بتایا کے وہ دھماکے سے صرف تین منٹ پہلے دکان بند کر کے اپنی بیٹی اور نواسیوں کے ہمراہ گھر گئی تھیں اور جس وقت وہ دھماکے کی جگہ سے گزری اس وقت پیپلز پارٹی کے کارکن وہاں بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ ان کا خدشہ تھا کہ دھماکے کی جگہ کے عین سامنے ہونے کے باعث اب کافی دن تک گاہک خوف کے مارے ان کے پارلر کا رخ نہیں کریں گے۔ | اسی بارے میں ’انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے‘17 July, 2007 | پاکستان ہلاکتوں میں اضافہ، وکلاء کا احتجاج18 July, 2007 | پاکستان چوکی پرحملہ، پانچ حملہ آور ہلاک18 July, 2007 | پاکستان پاکستان: چھ ماہ میں انیس خودکش حملے18 July, 2007 | پاکستان یہ خود کش حملہ تھا: طارق عظیم17 July, 2007 | پاکستان دھماکہ، وکلاء کا یومِ سوگ18 July, 2007 | پاکستان اب میدانِ جنگ پورا وزیرستان ہو سکتا ہے15 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||