لال مسجد غیر معینہ عرصے کے لیے بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جمعہ کو ہنگامے کے بعد لال مسجد کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ علماء اور علاقے کے لوگوں سے مذاکرات کرے گی اور صلاح مشورے کے بعد مسجد کو دوبارہ کھولا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے سے کرفیو اٹھا لیا گیا ہے اور ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ تاہم لال مسجد کے اردگرد سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور اسے ممنوعہ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ جامعہ حفصہ کا باقی ماندہ ملبہ جلد اٹھا لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو لال مسجد میں ہنگامہ کرنے والے پچاس افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘10 July, 2007 | پاکستان صوبہ سرحد میں مظاہرے اور دعائیں11 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: لاپتہ طلباء، والدین کی مشکلات14 July, 2007 | پاکستان سات مرلے جائز، اٹھارہ کنال ناجائز24 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: تفصیلی رپورٹ طلب26 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||