36 خودکش حملے، 315 سے زائدہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس اہلکاروں کے علاوہ ڈی آئی جی پولیس پشاور، کوئٹہ کے سول جج اور سات وکلاء بھی شامل ہیں۔ زیادہ تر خود کش حملے صوبہ سرحد میں ہوئے اور مبصرین کہتے ہیں کہ یہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف جاری جنگ کا نتیجہ ہے۔ واضح رہے کہ ریموٹ کنٹرول، راکٹ باری اور گھات لگا کر حملوں اور اس میں مارے جانے والوں کی تعداد علیحدہ ہے۔ اس طرح کے حملوں اور مارے جانے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں خود کش حملوں کا رجحان رواں عشرے کی ابتداء سے فرقہ وارانہ بنیاد پر شروع ہوا لیکن بعد میں اس کا دائرہ کار ہوٹلوں، سکیورٹی فورسز کے قافلوں، چیک پوسٹوں اور بازاروں تک پھیل گیا۔ سنہ2007 کے پہلے ہی ماہ میں چار خود کش حملے ہوئے۔ پہلا خود کش حملہ بائیس جنوری کو شمالی وزیرستان کے شہر میر علی کے قریب فوجی گاڑیوں کے قافلے پر ہوا جس میں حملہ آور، چار فوجی اور ایک عورت ہلاک جبکہ تیئس زخمی ہوئے۔ اس حملے کے چار دن بعد 26 جنوری کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک جبکہ 5 لوگ زخمی ہوئے۔
ایک دن بعد ہی یعنی27 جنوری کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ایک مسجد کے قریب خود کش حملہ ہوا جس میں ڈی آئی جی پولیس پشاور، ایک ڈی ایس پی اور دو یونین کونسل ناظمین سمیت 13 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔ ماہ ِجنوری کا آخری خودکش حملہ انتیس جنوری کو صوبہ سرحد کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا جس میں ایک مرتبہ پھر پولیس نشانہ بنی۔ پولیس چیک پوسٹ کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں 2 پولیس اہلکار اور حملہ آور مارے گئے۔ فروری میں بھی خود کش حملوں کے تین واقعات پیش آئے۔ تین فروری کو صوبہ سرحد کے ضلع ٹانک کے علاقے بارہ خیل میں فوجی گاڑیوں کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا جس میں حملہ آور اور دو فوجی مارے گئے۔ تین دن بعد 6 فروری کو اسلام آباد ائرپورٹ کے احاطے میں ایک اور خود کش حملہ ہوا جس میں صرف حملہ آور ہلاک ہوا جبکہ 3 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ سترہ فروری کو کوئٹہ میں ایک بڑا خود کش حملہ سینئر سول جج کی عدالت میں ہوا جس میں سول جج اور چھ وکلاء سمیت سترہ افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہوئے۔ اس کے بعد 29 مارچ کو صوبہ پنجاب کے علاقے کھاریاں میں فوجی چھاؤنی کے قریب فوجی تربیتی مرکز میں ہونے والے خودکش حملے میں دو فوجی اور حملہ آور مارے گئے جبکہ سات لوگ زخمی ہوئے۔
اپریل کی 28 تاریخ کو وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ کے حلقہ انتخاب چارسدہ میں ان کے جلسے میں خودکش حملہ ہوا جس میں کم سے کم 31 افراد ہلاک ہوئے جبکہ آفتاب شیرپاؤ اور ان کے بیٹے سکندر شیرپاؤ سمیت درجنوں زخمی ہوئے۔ مئی کی 15 تاریخ کو پشاور کے مرحبا ہوٹل میں خودکش دھماکہ ہوا جس میں 25افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر افغان شہری تھے۔ 28 مئی کو صوبہ سرحد کے ہی ضلع بنوں میں خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی فرنٹئر کانسٹیبلری کی ایک گاڑی سے ٹکرادی جس سے حملہ آور اور دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔ جولائی خودکش حملوں کے حوالے سے مہلک ترین ثابت ہوا جب اسلام آباد کی لال مسجد اور اس سے متصل جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کے آغاز کے کچھ ہی دن بعد خودکش حملوں کا بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ چار جولائی کو قبائلی علاقے میران شاہ سے بنوں آنے والے ایک فوجی قافلے کو مبینہ خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں حکام کے مطابق چھ فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے۔ دو دن بعد چھ جولائی کو صوبہ سرحد کی مالاکنڈ ایجنسی کے چکدرہ پل کے ساتھ ہونے والے خودکش حملے میں چار فوجیوں کو ہلاک جبکہ ایک کو زخمی کر دیا گیا۔ اس حملے کے چھ روز بعد یعنی بارہ جولائی کو ایک مبینہ خودکش بمبار نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں قائم پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر حملہ کردیا تھا جس میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔
پندرہ جولائی کو صوبہ سرحد کے ضلع سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دو مختلف مبینہ خودکش حملوں میں گیارہ فوجیوں سمیت چالیس افراد ہلاک ہوئے۔ پہلا خودکش حملہ سوات کے علاقہ مٹہ میں پیش آیا تھا جس میں دو مبینہ خودکش حملہ آوروں نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک اور باون زخمی ہوگئے جبکہ دوسرے واقعے میں ڈی آئی خان میں پولیس بھرتی مرکز پر ہونے والے حملے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت ستائیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔ دو دن بعد سترہ جولائی کو قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کھجوری چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں دو فوجی اور خود کش حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ اٹھارہ جولائی کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب خود کش حملے میں بیس سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد سے ذرا پہلے ہوا تھا۔ انیس جولائی کو صوبہ سرحد کے شہروں ہنگو اور کوہاٹ جبکہ بلوچستان کے شہر حب میں تین خود کش حملوں میں باون افراد ہلاک ہوگئے۔ بیس جولائی کو میرانشاہ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا جس میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت چار افراد مارے گئے۔ ستائیس جولائی کو اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ میں خود کش حملے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت پندرہ افراد مارے گئے۔ دو اگست کو صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں پولیس کے تربیتی مرکز کو
تین اگست کو صوبہ سرحد کے شہر مینگورہ میں ضلع ناظم کے اہلخانہ کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ کیا۔ حملہ آور مارا گیا تاہم ناظم کے والد اور دیگر رشتہ دار زخمی ہوگئے۔ چار اگست کو صوبہ سرحد کے علاقے پارہ چنار میں خود کش حملہ آور نے اپنی گاڑی ٹیکسی سٹینڈ میں گھسادی جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوگئے۔ سترہ اگست کو صوبہ سرحد کے شہر ٹانک میں فوجی قافلے پر حملے میں حملہ آور ہلاک اور پانچ فوجی زخمی ہوگئے۔ بیس اگست کو ہنگو میں چیک پوسٹ پر خود کش حملہ آور نے بارود سے بھر گاڑی ٹکرادی جس میں چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ چوبیس اگست کو شمالی وزیرستان کے شہر میر علی کے قریب اور قمر چیک پوسٹ پر دو علیحدہ خود کش حملوں میں پانچ اہلکاروں سمیت سات افراد مارے گئے۔ چھبیس اگست کو صوبہ سرحد کے ضلع شانگلہ میں بارود سے بھری گاڑی کو روکنے پر دھماکہ ہوا جس میں ایک پولیس افسر سمیت چار اہلکار اور بمبار مارے گئے۔ یکم ستمبر کو صوبہ سرحد کے شہروں باجوڑ اور جنڈولہ کے مقامات پر دو چار ستمبر کو راولپنڈی میں فوجی ترجمان وحید ارشد کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو خود کش حملوں میں پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں دھماکے فوجی ہیڈ کوارٹر کے قریب ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں راولپنڈی خودکش حملے، 25 ہلاک، 66 زخمی04 September, 2007 | پاکستان سوات: دو حملوں میں تین ہلاک31 August, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان پشاور:خودکش دھماکہ، 25 ہلاک15 May, 2007 | پاکستان ٹانک: فوجی قافلے پر خودکش حملہ17 August, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک14 July, 2007 | پاکستان خودکش حملہ،4 فوجی ہلاک22 January, 2007 | پاکستان میرانشاہ: خودکش حملہ، تین ہلاک 20 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||