BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودکش حملہ،4 فوجی ہلاک

میران شاہ دھماکہ
حملے کے بعد جائے حادثہ پر مقامی لوگ بھی جمع ہوگئے
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ میران شاہ کے قریب ایک فوجی قافلے پر مبینہ خودکش حملے میں چار پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوجی ترجمان کے مطابق تین فوجی موقع پر ہلاک ہوئے جبکہ ایک بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ بنوں سے شمالی وزیرستان جانے والے ایک قافلے پر کجھوری چیک پوسٹ کے قریب ہوا اور اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے چند کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

افواجِ پاکستان کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ’حملہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ساڑھے دس بجے اس وقت ہوا جب ایک سفید رنگ کی کار فوجی قافلے کے قریب دھماکے سے پھٹ گئی۔ اس حملے میں تین فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں اور ہمارے خیال میں یہ ایک خود کش حملہ تھا‘۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس حملے کے پس پشت عناصر کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا۔ اطلاعات کے مطاقب حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سڑک ٹریفک کے لیے کافی دیر تک بند کر دی۔

 حملہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ساڑھے دس بجے اس وقت ہوا جب ایک سفید رنگ کی کار فوجی قافلے کے قریب دھماکے سے پھٹ گئی۔ اس حملے میں تین فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں اور ہمارے خیال میں یہ ایک خود کش حملہ تھا
میجر جنرل شوکت سلطان

تاحال کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ مقامی شدت پسندوں کے ترجمان نے بی بی سی کو بذریعہ فون مطلع کیا ہے کہ اس حملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقامی طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ’یہ ان لوگوں کی کوشش ہوسکتی ہے جو اس علاقے میں معاہدے کے بعد کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہوں۔ہم یہ معاہدہ توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔
شمالی وزیرستان میں گزشتہ برس ستمبر میں حکومت اور مقامی عسکریت پسندوں کے درمیان امن معاہدے کے بعد کسی فوجی ہدف پر بظاہر پہلا حملہ ہے۔اس سے قبل میران شاہ کے قریب ایشیا چوکی پر مقامی سرکاری اہلکار اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ پر حملے میں ایک خاصہ دار مارا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج نےگزشتہ منگل کو جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں ایک حملے میں کئی مشتبہ عسکریت پسند ہلاک کیے تھے جبکہ مقامی قبائلیوں کے مطابق یہ عام شہری تھے۔

حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا

تاہم اس حملے کے بعد محسود علاقے میں مقامی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے اس حملے کا پندرہ سے بیس روز میں انتقام لینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ اسی دھمکی کا حصہ تھا یا نہیں۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے قافلوں پر اکثر حملے ہوتے رہے ہیں۔ پہلے پہل بارودی سرنگیں زیادہ تر استعمال کی جاتی تھیں لیکن اب بظاہر خودکش حملے بھی اسی مقصد کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

پاکستانی فوجی کارروائی اور مقامی طالبان کی دھمکیوں کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے علاقے میں امن معاہدے اب بظاہر بےمعنی سے ہوگئے ہیں۔ البتہ فریقین کھل کر امن معاہدے کے خاتمے کا اعلان ابھی نہیں کر رہے۔

جنوبی وزیرستانوزیرستان پر حملہ
’بیٹا مارا گیا، کچھ نہیں چاہیے، ظلم ہوا، بس‘
جنگ تیز ہوجائےگی
امریکہ، برطانیہ میں حملے کریں گے: بیت اللہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد