شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعرات کو شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے پاس قبائلی علاقے میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع ابھی تک نہیں ملی ہے۔ شمالی وزیرستان میں گزشتہ برس ستمبر میں مقامی طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے بعد یہ پاکستان فوج کی پہلی کارروائی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائی افغان سرحد پرایک کھلے علاقے میں مشتبہ شدت پسندوں کے جمع ہونے کی اطلاع کے بعد کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن نہیں بلکہ ایکشن تھا جس میں مارٹر اور آرٹلری استعمال کیا گیا لیکن انہوں نے مشتبہ شدت پسندوں کے نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔ شمالی وزیرستان افغانستان کی مشرقی صوبے پکتیکا اور پکتیا سے متصل ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب خود افغانستان میں نیٹو افواج نے گزشتہ رات پاکستان سے مبینہ طور پر سرحد پار کرنے والے ڈیڑھ سوعسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کارروائی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو پاکستان لائے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہے۔ باجوڑ میں گزشتہ اکتوبر میں ایک مدرسے پر حملے کے بعد سے پاکستانی فوج کی قبائلی علاقے میں یہ پہلی کارروائی کی ہے۔ تازہ کارروائی جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ رچرڈ باؤچر کی اسلام آباد آمد کے موقع پر ہوئی ہے۔ ان کا یہ دورہ بظاہر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر بارودی سرنگیں نصب کرنے کے فیصلے سے پیدا شدہ تلخی ختم کرنے کے لیے ہے۔ | اسی بارے میں شکئی: قبائلی رہنما سمیت چار ہلاک10 November, 2006 | پاکستان راکٹ ہم نے نہیں داغے: طالبان11 November, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: ’مخبر‘ عالم کا قتل19 November, 2006 | پاکستان غیرملکیوں کو جانا ہوگا: مشرف06 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||