BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 January, 2007, 13:00 GMT 18:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہلاک ہونے والے مقامی تھے‘

وزیرستان میں فوجی آپریشن فائل فوٹو
گزشتہ سال حکومت او مقامی طالبان میں امن معاہدہ طے پایا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح پاک فوج کی جانب سے کارروائی میں ان کی اطلاع کے مطابق صرف آٹھ لوگ مارے گئے ہیں جن میں سے تین مقامی محسود اور پانچ خانہ بدوش تھے۔

ادھر علاقے سے موصول اطلاعات کے مطابق مقامی آبادی نے تباہ کیے جانے والے کچے مکانات کے ملبے سے دس لاشیں نکال لی ہیں جن میں سے تین مقامی محسود جبکہ باقی افغان بتائے جاتے ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے جعمیت علما اسلام (ف) کے حمایت یافتہ مولانا معراج الدین نے کہا کہ تین محسود قوم کے ہلاک ہونے والے افراد اس کی ذیلی شاخ کیکڑے سے تعلق رکھتے تھے جبکہ خانہ بدوش لکڑیاں کاٹ کر گزارہ کرنے والے غریب لوگ تھے۔

’یہ سب بے گناہ تھے نہ ملکی نہ غیرملکی تھے۔ ان کو بالکل ناجائز طریقے سے مارا گیا ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ عرب اور ازبک تھے۔ میری اطلاع کے مطابق یہ جھوٹ ہے اور حقیقت کے انتہائی خلاف ہے‘۔

 ہلاک ہونے والے سب بے گناہ تھے نہ ملکی نہ غیرملکی تھے۔ ان کو بالکل ناجائز طریقے سے مارا گیا ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ عرب اور ازبک تھے۔ میری اطلاع کے مطابق یہ جھوٹ ہے اور حقیقت اس کے انتہائی بر خلاف ہے
ایم این اے معراج الدین

مولانا معراج الدین نے جو خود بھی محسود علاقے سے تعلق رکھتے ہیں منگل کو پشاور میں گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی سے ایک جرگے میں ملاقات بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس جرگے میں اس کارروائی پر شدید احتجاج کیا اور اسی دن اس جرگے کو منعقد کرنا ایک غلط قدم قرار دیا۔ ’ہمیں منگل کو نہیں بلایا جانا چاہیے تھا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ ’وہ مسلمانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھانا چاہ رہے ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں کہ گورنر سرحد کا اس احتجاج پر کیا ردعمل تھا، رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ خود تو اچھے انسان ہیں لیکن ’ صدر پرویز مشرف کی وجہ سے پورا ملک امریکہ کے پاس یرغمال ہے۔ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے امریکیوں کے کہنے پر ہو رہا ہے‘۔

ان سے دریافت کیا کہ آیا اس حملے کا محسود جنگجوؤں کے سربراہ بیت اللہ سے کیے گئے امن معاہدے پر کوئی اثر پڑنے کا خطرہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ تالی تو دونوں ہاتھوں سے ہی بجتی ہے۔

وزیرستان میں 2003 میں فوجی کارروائی کا آغاز ہوا تھا (فائل فوٹو)

’ہم تو پوری کوشش کریں گے کہ امن رہے اور بےقصور لوگوں کا قتل نہ ہو۔ لیکن اس کے لیے صدر مشرف کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی‘۔

جنوبی وزیرستان سے سینٹ کے رکن سید صالح شاہ نے اپنے ردعمل میں حکومت پر قبائلی جنگجو بیت اللہ کے ساتھ کیے جانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس بتائی۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ یہ بےگناہ لوگوں کے خلاف کارروائی تھی۔

انہوں نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے جو یہ واضح کر سکے کہ مرنے والے مقامی تھے یا غیرملکی۔ انہوں نے غیرملکیوں کی موجودگی کی تردید کی۔

صالح شاہ کا کہنا کہ بیت اللہ کے ساتھ امن معاہدے کی خلاف ورزی سے وزیرستان ایک مرتبہ پھر جنگ کے خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام لوگ بار بار غیرملکیوں کے نام پر ہونے والی کارروائیوں پر سراپا احتجاج ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد