BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 September, 2007, 10:51 GMT 15:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلکار بازیاب نہ ہو سکے،جرگہ واپس

وزیرستان (فائل فوٹو)
’مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اہلکاروں کے سر قلم کر دیے جائیں گے‘
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا سے اغواء ہونے والے سکیورٹی فورسز کے ایک سو سے زیادہ اہلکاروں کو چوتھے روز بھی بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے اور محسود قبائل کا جرگہ خالی ہاتھ لوٹ آیا ہے۔

ادھر بیت اللہ محسود کے ترجمان نے سنیچر کی شام پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مہمند رائفلز کے دس اہلکاروں کو بھی اغواء کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایاکہ لدھا سے چار دن پہلے اغواء کیے جانے والے سکیورٹی فورسز کے ایک سو سے زیادہ اہلکاروں کی رہائی کے لیے تین محسود قبائل کا جرگہ طالبان سے مذکرات کے بعد اج اتوار کو واپس وانا پہنچ گیا ہے۔

حکام کے مطابق مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کی رہائی کے لیے مشروط کر دی ہے اور ایک بار پھر ان دس افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جن کو ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان سے عبداللہ محسود کے ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جرگے نے وانا واپسی کے بعد جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ حسین زادہ سے بھی ملاقات کی ہے۔ جرگے نے پولیٹکل ایجنٹ کو یہ بھی بتایا کہ طالبان کا کہنا ہے کہ’فوجی اہلکار قبائلی روایت سے ناآشنا ہیں اور بار بار امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے چلے آ رہے ہیں‘۔حکام کے مطابق مقامی طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو مغوی اہلکاروں کے سر قلم کر دیے جائیں گے۔

دوسری جانب حکومت نے محسود قبائل پر دباؤ ڈالنے کے لیے اجتماعی ذمہ داری کے تحت جنوبی وزیرستان کے مختلف چیک پوسٹوں کے علاوہ ٹانک میں بھی چوتھے روز بھی محسود قبائل کا پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق اب تک ایک سو سے زیادہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو سکیورٹی فورسز کے ایک سو سے زیادہ اہلکاروں کو بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے لدھا سے اغواء کیے تھے۔ بیت اللہ محسود کے ترجمان کا دعوٰی تھا کہ انہوں نے تین سو کے قریب فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے جبکہ فوج کے ترجمان وحید ارشد کا کہنا تھا کہ موسم کی خرابی اور دو قبائل کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے ہمارے اہلکار وہاں پھنس گئے ہیں اورجب ہی لڑائی ختم ہوجائے گی سکیورٹی فورسز کے اہلکار واپس آ جائیں گے۔

ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے نئے ترجمان احمداللہ احمدی نے خبردار کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوج اور سکاؤٹس فورس کے جو اہلکار طالبان کے خلاف کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے انہیں معاف کر دیا جائے گا۔

ان کے مطابق مقامی طالبان کے شورٰی نے فیصلہ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والوں کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نےکہا کہ حکومت نے دوبارہ مذکرات کے لیے کوششیں شروع کی ہیں لیکن شورٰی کا فیصلہ ہے کہ جب تک شمالی وزیرستان سے تمام چیک پوسٹیں ختم نہیں کی جاتیں تب تک طالبان کی کارروائی جاری رہے گی۔

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
اسی بارے میں
جاسوسی کےالزام میں قتل
12 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد